جنگ مقدّس — Page 247
۲۴۵ جنگ مقدس روحانی خزائن جلد ۶ پھر فرماتا ہے۔ وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا پھر فرماتا ہے۔ وَلَا يَزَالُونَ يُقَاتِلُونَكُمْ حَتَّى يَرُدُّوكُمْ عَنْ دِينِكُمْ إِنِ اسْتَطَاعُوا پھر فرماتا ہے۔ وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ نَفَسَدَتِ الْأَرْضُ " پھر فرماتا ہے۔ اِن عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُو قِبْتُمْ به آاس ۱۴ اخیر رکوع پھر فرماتا ہے۔ اِذْ جَاءُ وَكُمْ مِنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ پھر فرماتا ہے۔ یاهْلَ الْكِتَبِ لِمَ تَصُدُّونَ " ۱۸ ۱۷ پھر فرماتا ہے۔ وَهُمْ بَدَءُ وُكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ اب ترجمہ کے بعد آپ کو معلوم ہوگا کہ اصل حقیقت کیا ہے۔ اور اگر یہ سوال ہو کہ کفار نے کیسے ہی دکھ دیئے تھے مگر صبر کرنا چاہیے تھا تو اس کا یہ جواب ہے کہ وہ اپنی کامیابیوں کو اپنے لات وعزئی بتوں کی تائیدات پر حمل کرتے تھے جیسا کہ قرآن کریم اس سے بھرا پڑا ہے حالانکہ وہ صرف ایک مہلت کا زمانہ تھا۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے چاہا کہ یہ ثابت کرے کہ جیسے ان کے بت قرآن کریم کا مقابلہ کرنے سے عاجز ہیں ایسا ہی تلوار کے ساتھ کامیاب کرا دینے سے بھی عاجز ہیں ۔ سو جس قدر اسلام میں ان پر حملے کئے گئے اول مقصد ان کفار کے بتوں کا عاجز ہونا تھا اور یہ ہرگز نہیں کہ ان لڑائیوں میں کسی قسم کا یہ ارادہ تھا کہ قتل کی دھمکی دے کر ان لوگوں کو مسلمان کر دیا جائے بلکہ وہ تو طرح طرح کے جرائم اور خونریزیوں کے سبب سے پہلے سے واجب القتل ہو چکے تھے اور اسلامی رعایتوں میں سے جو ان کے ساتھ رب رحیم نے کیں ایک یہ بھی رعایت تھی کہ اگر کسی کو توفیق اسلام نصیب ہو تو وہ بچ سکتا ہے۔ اس میں جبر کہاں تھا عرب پر تو انہیں کے سابقہ جرائم کی وجہ سے فتوی قتل کا ہو گیا تھا۔ ہاں باوجود اس کے یہ رعایتیں بھی تھیں کہ ان کے بچے نہ مارے جائیں ان کے بڑھے نہ مارے جائیں ان کی عورتیں نہ ماری جائیں اور ساتھ اس کے یہ بھی رعایت کہ بصورت ایمان لانے کے وہ بھی نہ مارے جائیں۔ (باقی آئندہ) دستخط بحروف انگریزی غلام قا در فصیح دستخط بحروف انگریزی ہنری مارٹن کلارک پریزیڈنٹ از جانب اہل اسلام پریزیڈنٹ از جانب عیسائی صاحبان البقرة : ١٩١ ٢ البقرة : ۲۱۸ ٣ البقرة : ۲۵۲ ۳ النحل : ۱۲۷ هـ الاحزاب ال ال عمران: ۱۰۰ ك التوبة: ١٣