جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 246 of 502

جنگ مقدّس — Page 246

روحانی خزائن جلد ۶ ۲۴۴ جنگ مقدس ٹھہرائی تا معلوم ہو کہ حقوق کا مطالبہ اس سے جائز نہیں اور اس سے کوئی اپنے حق کا خواستگار نہیں ہو سکتا اور نہ وہ حاجت مند ہے کہ بحیثیت ایک ایسے حقدار کے جو بغیر وصول حق کے مرا جاتا ہے بندوں سے فرمانبرداری چاہتا ہے بلکہ بندوں کی عبادتیں اور بندوں کی طاعتیں در حقیقت انہیں کے فائدہ کے لئے ہیں جیسا کہ طبیب نسخہ کسی بیمار کے لئے تجویز کرتا ہے تو یہ بات نہیں کہ اس نسخہ کو طبیب آپ پی لیتا ہے یا اس سے کوئی حظ اٹھاتا ہے یا کہ وہ بیمار کی بھلائی کے لئے ہے۔ اور پھر بعد اس کے آپ نے اسلام کے جہاد پر اعتراض کیا ہے مگر افسوس کہ آپ نے اسلامی جہاد کی فلاسفی کو ایک ذرہ بھی نہیں سمجھا اور آیات کی ترتیب کو نظر انداز کر کے بے ہودہ اعتراض کر دیتے ہیں۔ واضح رہے کہ اسلام کی لڑائیاں ایسے طور سے نہیں ہوئیں کہ جیسے ایک زبر دست بادشاہ کمزور لوگوں پر چڑھائی کر کے ان کو قتل کر ڈالتا ہے بلکہ صحیح نقشہ ان لڑائیوں کا یہ ہے کہ جب ایک مدت دراز تک خدا تعالی کا پاک نبی اور اس کے پیر و مخالفوں کے ہاتھ سے دکھ اٹھاتے رہے چنانچہ ان میں سے کئی قتل کئے گئے اور کئی برے برے عذابوں سے مارے گئے یہاں تک کہ ہمارے نبی صلعم کے قتل کرنے کے لئے منصوبہ کیا گیا اور یہ تمام کامیابیاں ان کے بتوں کے معبود برحق ہونے پر حمل کی گئیں اور ہجرت کی حالت میں بھی آنحضرت صلعم کو امن میں نہ چھوڑا گیا بلکہ خود آٹھ پڑاؤ تک چڑھائی کر کے خود جنگ کرنے کے لئے آئے تو اس وقت ان کے حملہ کے روکنے کے لئے اور نیز ان لوگوں کو امن میں لانے کے لئے جو اُن کے ہاتھ میں قیدیوں کی طرح تھے اور نیز اس بات کے ظاہر کرنے کے لئے کہ ان کے معبود جن کی تائید پر ۱۳۸) یہ سابقہ کامیابیاں حمل کی گئی ہیں لڑائیاں کرنے کا حکم ہوا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَإِذْ يَمْكُرُبِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِيُثْبِتُوكَ أو يَقْتُلُوكَ أو يُخْرِجُوكَ Ι وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ الله وَالله خَيْرُ الْمُكِرِينَ پھر فرماتا ہے ۔ وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاء وَالْوِلْدَانِ إلى آخره 2 الانفال : ٣١ النساء : ٧٦