جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 245 of 502

جنگ مقدّس — Page 245

روحانی خزائن جلد ۶ ۲۴۳ جنگ مقدس حق ہو جس حق کا وہ مطالبہ کرے لیکن یہ دونوں باتیں باطل ہیں کیونکہ بندہ کو خدا تعالیٰ نے عدم محض سے پیدا کیا ہے اور جس طرح چاہا بنایا۔ مثلاً انسان یا گدھا یا بیل یا کوئی کیڑا مکوڑا ۔ پھر حق کیسا۔ اور خدا تعالیٰ کا حق اگر چہ غیر محدود ہے مگر مطالبہ کے کیا معنی ۔ اگر یہ معنی ہیں کہ خدا تعالیٰ کو بندوں کی فرمانبرداری کی ضرورتیں پیش آ گئی ہیں اور تب ہی اس کی خدائی قائم رہتی ہے کہ ہر ایک بندہ نیک اور پاک دل ہو جائے ورنہ اس کی خدائی ہاتھ سے جاتی ہے۔ یہ تو بالکل بے ہودہ ہے کیونکہ اگر تمام دنیا نیک بن جائے تو اس کی خدائی کچھ بڑھ نہیں سکتی ۔ اور اگر بد بن جائے تو کچھ کم نہیں ہو سکتی۔ پس حق کو بحیثیت حق قرار دے کر مطالبہ کرنا چہ معنی دارد۔ پس اصل بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے جو غنی بے نیاز ہے اور اس سے برتر ہے کہ اپنی ذاتی حاجت سے کسی حق کا مطالبہ کرے۔ خود بندہ کے فائدہ کے لئے اور اپنی مالکیت اور خالقیت اور رحمانیت اور رحیمیت کے ظاہر کرنے کے لئے یہ سارا سامان کیا ہے۔ اوّل ربوبیت یعنی خالقیت کے تقاضا سے دنیا کو پیدا کیا پھر رحمانیت کے تقاضا سے وہ سب چیزیں ان کو عطا کیں جن کے وہ محتاج تھے ۔ پھر رحیمیت کے تقاضا سے ان کے کسب اور سعی میں برکت ڈالی اور پھر مالکیت کے تقاضا سے ان کو مامور کیا۔ اور امر معروف اور نہی منکر سے مکلف ٹھہرایا اور اس پر وعید اور مواعید لگا دیئے۔ اور ساتھ ہی یہ وعدہ بھی کیا کہ جو شخص بعد معصیت کے طریق ایمان اور توبہ واستغفار کا اختیار کرے۔ وہ بخشا جائے گا۔ پھر اپنے وعدوں کے ۱۳۷۶ موافق روز حشر میں کار بند ہوگا اس جگہ رحم بلا مبادلہ کا اعتراض کیا تعلق رکھتا ہے اور قائمی حقوق کا اور خدا تعالیٰ سے متکبرانہ طور پر عدل کا خواستگار ہونا کیا علاقہ رکھتا ہے۔ کچی فلاسفی اس کی یہی ہے جو سورہ فاتحہ میں بیان فرمائی گئی جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ اب دیکھئے رحمن اور رحیم کے بعد بظاہر یہ سمجھا جاتا تھا کہ العادل کا لفظ لانا ان صفات کے مناسب حال ہے کہ رحم کے بعد عدل کا ذکر ہو لیکن خدا تعالیٰ نے عدل سے عدول کر کے اپنی صفت مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ