جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 238 of 502

جنگ مقدّس — Page 238

روحانی خزائن جلد ۶ ۲۳۶ از جانب ڈپٹی عبد اللہ آتھم صاحب یکم جون ۱۸۹۳ء جنگ مقدس جناب کا یہ فرمانا کہ مسیح تمیں برس تک الوہیت سے خالی رہے بقول میرے یہ خوش فہمی ہے میرا کہنا یہ ہی تھا کہ مسیحیت کے عہدہ پر وہ تب تک نہیں آئے ۔ اور یہ صحیح ہے باقی جو کچھ آپ نے فرمایا وہ زائد ہے۔ بے حدی سے خالی ہونا تو کسی کا بھی جائز نہیں چہ جائیکہ مسیح اس سے خالی رہے۔ اقنوم ثانی کا جو رشتہ انسانیت سے ہے واسطے مسیحیت کے ہے اقنوم ثانی گو ساتھ الوہیت کے ہو۔ تاہم وہ مسیح نہیں تھا جب تک کہ تمہیں برس کا ہوا۔ مظہر اللہ کے معنے کیا ہیں اور کس مراد سے یہ کلمہ استعمال ہوا ہے۔ ہماری نظر میں تو یہ معنی ہیں جائے ظہور اللہ کی اور واسطے عہدہ میسحیت کے ہیں پھر کیوں اس پر آپ تنازعہ کرتے ہیں۔ روح القدس برائے گواہی اس امر کے آیا کہ یہ بیٹا خدا کا ہے خدا نے کہا میں اس سے راضی ہوں نہ اس لئے کہ اس وقت آن کر اس کے بیچ میں داخل ہوا۔ (۲) آپ کے دوسرے امر کا جواب یہ ہے کہ جو چاہو آپ فرماؤ لیکن اس کا جواب آپ نے نہیں دیا کہ تقاضائے عدل کا کیونکر پورا ہو۔ اگر آپ کے فرمانے کا یہ مطلب ہے کہ تقاضائے عدل کچھ شے نہیں ہے تو ہمارا آپ سے اس صداقت اولی پر اتفاق نہیں۔ ۱۳ (۳) آپ فرماتے ہیں کہ جبر قرآن سے ثابت نہیں مجھے اس میں حیرانی ہے کہ آپ اس آیت کے لفظوں کی طرف توجہ نہیں فرماتے جس میں لکھا ہے کہ کہتے ہیں کہ کچھ بھی کام ہمارے ہاتھ میں ہے اور بجواب اس کے کہا جاتا ہے کہ کہدے ۔ سب کام اللہ ہی کے ہاتھ میں ہیں۔ اور آیات تو میں اس مقدمہ میں بہت قرآن سے دے سکتا ہوں لیکن حاجت نہیں۔ پھر آپ کا عقیدہ اس میں جو لکھا ہے والقدر خيره وشره من الله تعالی خیر اور شر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے وہ نتیجہ منتخب