جنگ مقدّس — Page 232
روحانی خزائن جلد ۶ ۲۳۰ جنگ مقدس یہ بھی اقرار کرتے ہیں کہ اس بارہ میں جو کچھ ہم نے کہنا تھا وہ کہہ دیا۔ بعد اس کے کچھ نہیں کہیں گے مگر افسوس کہ اُنہوں نے یہ طرز حق پرستوں کی اختیار نہیں کی ۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان کو دوسروں کی تحریک اور نکتہ چینی سے بعد میں فکر پڑی کہ ہمارے اس قول سے مسیح کا انسان ہونا۔ اور مظہر اللہ سے تمہیں برس تک خالی ہونا ثابت ہو گیا تو پھر اس مصیبت پیش آمدہ کی وجہ سے آج اُنہوں نے یہ تاویل رکیک پیش کی مگر در حقیقت یہ تاویل نہیں بلکہ صاف صاف اور کھلے کھلے لفظوں میں انکار ہے پھر بعد اس کے ڈپٹی صاحب موصوف فرماتے ہیں کہ میرے سوال کا جواب نہیں آیا یعنی تقاضائے عدل کیونکر پورا ہو ۔ میں نے کل کے بیان میں صاف لکھا دیا تھا کہ آپ کا یہ دعویٰ کہ رحم اور عدل دونوں دوش بدوش اور خدا تعالیٰ کے لئے ایک ہی وقت میں لازم پڑے ہوئے ہیں یہ غلط خیال ہے پھر مکرر کچھ لکھتا ہوں کہ رحم قانون قدرت کی شہادت سے اوّل مرتبہ پر ہے اور دائمی اور عام معلوم ہوتا ہے لیکن عدل کی حقیقت قانون الہی کے نازل ہونے کے بعد اور وعدہ کے بعد متحقق ہوتی ہے یعنی وعدہ کے پہلے عدل کچھ بھی چیز نہیں اس وقت تک مالکیت کام کرتی ہے۔ اگر وعدہ سے پہلے عدل کچھ چیز ہے تو ڈپٹی صاحب ہمارے کل کے سوال کا ذرہ متنبہ ہو کر جواب دیویں کہ ہزاروں انسانوں کے بچے اور پرند اور چرند اور کیڑے مکوڑے بے وجہ ہلاک کئے جاتے ہیں وہ با وجود عدل کی دائمی صفت کے کیوں کئے جاتے ہیں اور بموجب آپ کے قاعدہ کے کیوں عدل ان کے متعلق نہیں کیا جاتا ہے ۔ اصل بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ پر کسی چیز کا حق نہیں ہے انسان اپنے حق سے بہشت کو بھی نہیں پا سکتا صرف ۱۳۹ وعدہ سے یہ مرتبہ شروع ہوتا ہے۔ جب کتاب الہی نازل ہو چکتی ہے اور اس میں وعدہ بھی ہوتے ہیں ۔ اور وعید بھی ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ وعید کی رعایت سے ہر ایک نیک و بد سے معاملہ کرتا ہے۔ اور جبکہ عدل فی ذاتہ کچھ بھی چیز نہیں بلکہ وعدہ وعید پر تمام مدار ہے اور خداوند تعالیٰ کے مقابل پر کسی چیز کا کوئی بھی حق نہیں تو پھر عدل کیونکر رکھا جاوے