جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 215 of 502

جنگ مقدّس — Page 215

روحانی خزائن جلد ۶ ۲۱۳ جنگ مقدس کی خاطر بخش دیئے۔ لیکن اصل میں نہیں بخشے تھے پھر پکڑے گا اور چڑ کرنے والوں کی طرح ناراض ہو کر جہنم میں ڈالے گا اس کا آپ کے پاس کیا ثبوت ہے براہ مہربانی وہ ثبوت پیش کریں مگر توریت کے حوالہ سے جہاں یہ لکھا ہو کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ گو میں نے آج اس نا فرمانی کو بخش دیا مگر کل پھر میں مواخذہ کروں گا اس جگہ آپ کی تاویل منظور نہیں ہوگی ۔ اگر آپ سچ پر ہیں تو توریت کی آیت پیش کریں کیونکہ توریت کے کئی مقامات میں جو ہم پیچھے سے لکھاویں گے یہی صاف صاف لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ بعض نافرمانیوں کے وقت حضرت موسیٰ کی شفاعت سے ان نافرمانیوں سے درگذر کرتا رہا بلکہ بخش دینے کے الفاظ موجود ہیں۔ گنتی اور استثنا ۱۹ سے ۲۲ خروج پھر آپ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح کا دوسرے گناہگاروں کے عوض میں مصلوب ہونا قانون قدرت کے مخالف نہیں ایک شخص کا قرضہ دوسرا اپنی دولت سے ادا کر سکتا ہے یہ آپ نے خوب ہی مثال دی ہے۔ پوچھا تو یہ گیا تھا کہ کیا ایک مجرم کے عوض میں دوسرا شخص سزایاب ہو سکتا ہے ۔ اس کی نظیر دنیا میں کہاں ہے۔ آجکل (۱۳۰) انگریزی قوانین جو بڑی جستجو اور تحقیق اور رعایت انصاف سے بنائے جاتے ہیں کیا آپ نے ۱۲ ۱۴ جو ایک مدت تک اکسٹرا اسٹنٹ رہ چکے ہیں تعزیرات ہند وغیرہ میں کوئی ایسی بھی دفعہ لکھی ہوئی پائی ہے کہ زید کے گناہ کرنے سے بکر کو سولی پر کھینچنا کافی ہے۔ (باقی آئندہ) دستخط بحروف انگریزی غلام قادر فصیح پریزیڈنٹ از جانب اہل اسلام دستخط بحروف انگریزی ہنری مارٹن کلارک پریزیڈنٹ از جانب عیسائی صاحبان