جنگ مقدّس — Page 214
روحانی خزائن جلد ۶ ۲۱۲ جنگ مقدس سے الوہیت میں کوئی زیادہ قوت اور طاقت نہ بڑھی اگر کوئی بڑھی ہے اور مثلاً پہلے کامل تھی پھر ملنے سے یا ملنے کے لحاظ سے اکمل کہلائے یا مثلاً پہلے قادر تھی اور پھر ملنے کے لحاظ سے اقدر نام رکھا گیا ۔ یا پہلے خالق تھی اور پھر ملنے کے لحاظ سے خلاق یا اخلق کہا گیا ۔ تو براہ مہربانی اس کا کوئی ثبوت دینا چاہیے آپ کثیف جسموں کی طرف تو نا حق کھینچ کر لے گئے ۔ میں نے تو ایک مثال دی تھی اور پھر وہ مثال بھی بفضلہ تعالیٰ آپ ہی کی کتابوں سے ثابت کر دکھائی اور آپ کے یہ تمام بیانات بڑے افسوس کے لائق ہیں کیونکہ ہماری شرط کے مطابق نہ آپ دعوئی انجیل کے الفاظ سے پیش کرتے ہیں اور نہ دلائل معقولی انجیل کے رو سے بیان فرماتے ہیں بھلا فرمائیے کہ رحم بلا مبادلہ کا لفظ انجیل شریف میں کہاں لکھا ہے اور اسکے معنے خود حضرت مسیح کے فرمودہ سے کب اور کس وقت آپ نے 19) بیان فرمائے ہیں اس عہد شکنی پر جس قدر اہل انصاف افسوس کریں وہ تھوڑا ہے ۔ اور کل جو میں نے قہر بلا مبادلہ کا ذکر کیا تھا اس کا بھی آپ نے کوئی عمدہ جواب نہ دیا میرا مطلب تو یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کی صفت مالکیت بغیر دیکھنے گناہ کے بجائے خود کام کر رہی ہے۔ مثلاً انسان کے بچوں کو دیکھو کہ صد ہا صعب اور شدید اور ہولناک بیماریاں ہوتی ہیں اور بعض ایسے غرباء اور مساکین کے گھر میں پیدا ہوتے ہیں کہ دانت نکلنے کے ساتھ طرح طرح کے فاقہ کو اٹھانا پڑتا ہے پھر بڑے ہوئے تو کسی کے سائیس بنائے گئے ۔ اور دوسری طرف ایک شخص کسی بادشاہ کے گھر میں پیدا ہوتا ہے پیدا ہوتے ہی غلام اور کنیز کیں اور خادم دست بدست گود میں لئے پھرتے ہیں ۔ بڑا ہو کر تخت پر بیٹھ جاتا ہے۔ اس کا کیا سبب ہے۔ کیا مالکیت سبب ہے یا آپ تناسخ کے قائل ہیں پھر اگر مالکیت ثابت ہے اور خدا تعالیٰ پر کسی کا بھی حق نہیں تو اتنا جوش کیوں دکھایا جاتا ہے ۔ پھر آپ فرماتے ہیں کہ موسیٰ کی شفاعتیں حقیقی شفاعتیں نہیں تھیں بلکہ ان پر مواخذہ قیامت کی بیج لگی ہوئی تھی اور گو خدا تعالیٰ نے سرسری طور پر گناہ بخش دیئے اور کہدیا کہ میں نے موسیٰ