جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 210 of 502

جنگ مقدّس — Page 210

روحانی خزائن جلد ۶ ۲۰۸ جنگ مقدس بھی اس بات کا اقرار رکھتے ہیں کہ خدا محبت ہے۔ کہیں یہ نہیں لکھا کہ خدا غضب ہے یعنی (۱۱۵) عدل ہے اور غضب کا لفظ عدل کے لفظ سے اس لئے مترادف اور ہم معنی ہے کہ خدا تعالیٰ کا غضب انسانوں کے غضب کا سا نہیں کہ بلا وجہ اور یا چڑنے کے طور پر ظہور میں آجائے بلکہ وہ ٹھیک ٹھیک عدل کے موقعہ پر ظہور میں آتا ہے۔ اب یہ دوسرا سوال ہے کہ جو شخص قانون الہی کی خلاف ورزی کرے اس کی نسبت کیا حکم ہے تو اس کا یہی جواب ہوگا کہ اس قانون کی شرائط کے مطابق عمل کیا جاوے گا۔ رحم کو اس جگہ کچھ تعلق نہیں ہوگا یعنی رحم بلا مبادلہ کے مسئلہ کو اس جگہ کچھ تعلق نہیں ہوگا کیونکہ گناہ کی فلاسفی یہی ہے کہ وہ قانون الہی کے توڑنے سے پیدا ہوتا ہے پس ضرور ہوا کہ پہلے قانون موجود ہو مگر قانون تو کسی خاص زمانہ میں موجود ہو گا اس لیے خدا تعالیٰ کا عدل اس کے رحم کے دوش بدوش نہیں ہو سکتا بلکہ اس وقت پیدا ہوتا ہے کہ جب قانون نفاذ پا کر اور پھر پہنچ کر اُس کی خلاف ورزی کی جائے ۔ پس واضع قانون کو یہ عام اختیار ہے کہ جس طرح چاہے اپنے قانون کی خلاف ورزی کی سزائیں مقرر کرے اور پھر ان سزاؤں کے معاف کرنے کے لئے اپنی مرضی کے مطابق شرائط اور حدود ٹھہرائے لہذا ہم کہتے ہیں کہ اب یہ مسئلہ رحم بلا مبادلہ کی مزاحمت سے اور صورت میں ہو کر بالکل صاف ہے ہاں یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ جو سزائیں مقرر کی گئی ہیں یا طریق معافی کے مقرر کئے گئے ہیں یہ کس مذہب کی کتاب میں انسب واولی اور قرین بانصاف ہیں۔ اور اس خوبی کے دیکھنے کے لئے رحم کا لحاظ رکھنا بہت ضروری ہوگا کیونکہ ابھی ہم ثابت کر چکے ہیں کہ رحم اصلی اور عام اور مقدم صفت ہے پس جس قدر کسی مذہب کا طریق سزا اور طریق معانی رحم کے قریب قریب ہو گا وہ انسب اور اولی مذہب سمجھا جائے گا کیونکہ سزا دہی کے اصول اور قوانین میں حد سے زیادہ تشدد کرنا اور ایسی ایسی پابندیاں لگا دینا جو خود رحم کے برخلاف ہیں خدا تعالیٰ کی صفات مقدسہ سے بہت دور ہیں سو