جنگ مقدّس — Page 201
روحانی خزائن جلد ۶ ۱۹۹ جنگ مقدس وہ حق قائم رہتا ہے اور حق اللہ میں یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ جس طرح پر کسی نے شوخی اور بیبا کی کر کے معصیت کا طریق اختیار کیا ہے۔ اسی طرح جب وہ پھر تو بہ واستغفار کرتا ہے اور اپنے بچے خلوص کے ساتھ فرمانبرداروں کی جماعت میں داخل ہو جاتا ہے اور ہر ایک طور کا درد اور دکھ اٹھانے کیلئے تیار ہو جاتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کے گناہ کو اس کے اس اخلاص کی وجہ سے بخش دیتا ہے کہ جیسا کہ اس نے نفسانی لذات کے حاصل کرنے کے لئے گناہ کی طرف قدم اٹھایا تھا۔ اب ایسا ہی اس نے گناہ کے ترک کرنے میں طرح طرح کے دکھوں کو اپنے سر پر لے لیا ہے۔ پس یہ صورت معاوضہ ہے جو اس نے اپنے پر اطاعت الہی میں دکھوں کو قبول کر لیا ہے اور اس کو ہم رحم بلا مبادلہ ہر گز نہیں کہہ سکتے ۔ کیا انسان نے کچھ بھی کام نہیں کیا۔ یوں ہی رحم ہو گیا۔ اس نے تو سچی توبہ سے ایک کامل قربانی کو ادا کر دیا ہے اور ہر طرح کے دکھوں کو یہاں تک کہ مرنے کو بھی اپنے نفس پر گوارا کر لیا ہے اور جو سزا دوسرے طور پر اس کو ملنی تھی وہ سزا اس نے آپ ہی اپنے نفس پر وارد کر لی ہے تو پھر اس کو رحم بلا مبادلہ کہنا اگر سخت غلطی نہیں تو اور کیا ہے۔ مگر وہ رحم بلا مبادلہ جس کو ڈپٹی صاحب پیش کرتے ہیں کہ گناہ کوئی کرے اور سزا کوئی پاوے۔ حز قیل باب ۱۸ آیت ۱۔ پھر حز قیل یا پھر سموئیل ۳ مکاشفات ۲۳ حز قیل یہ تو ایک نہایت مکر وہ ظلم کی قسم ہے ۔ اس سے بڑھ کر دنیا میں اور کوئی ظلم نہیں ہو گا ۔ سوائے اس کے کیا خدا تعالیٰ کو یہ طریق معافی گناہوں کا صد ہا برس سوچ سوچ کر پیچھے سے یاد آیا۔ ظاہر ہے کہ انتظام الہی جو انسان کی فطرت سے متعلق ہے وہ پہلے ہی ہونا چاہیے ۔ جب سے انسان دنیا میں آیا گناہ کی بنیا د اسی وقت سے پڑی ۔ پھر یہ کیا ہو (۱۰۷) گیا کہ گناہ تو اسی وقت زہر پھیلانے لگا مگر خدا تعالیٰ کو چار ہزار برس گزرنے کے بعد گناہ کا علاج یا د آیا ۔ نہیں صاحب یہ سراسر بناوٹ ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے جیسے ابتدا سے انسان کی فطرت میں ایک ملکہ گناہ کرنے کا رکھا ۔ ایسا ہی گناہ کا علاج بھی اسی طرز سے اس کی فطرت میں رکھا گیا ہے جیسے کہ وہ خود فرماتا ہے۔ بلی من أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَةٌ أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ 19 ۳۰_۲۷ سہو کتابت معلوم ہوتا ہے' ۱۸ “ہونا چاہیے۔(ناشر) ۱۸