جنگ مقدّس — Page 202
روحانی خزائن جلد ۶ ۲۰۰ جنگ مقدس وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ () یعنی جو شخص اپنے تمام وجود کو خدا تعالیٰ کی راہ میں سونپ دیوے اور پھر اپنے تئیں نیک کاموں میں لگا دیوے تو اس کو ان کا اجر اللہ تعالیٰ سے ملے گا۔ اور ایسے لوگ بے خوف اور بے غم ہیں۔ اب دیکھئے کہ یہ قاعدہ کہ تو بہ کر کے خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا اور اپنی زندگی کو اس کی راہ میں وقف کر دینا یہ گناہ کے بخشے جانے کیلئے ایک ایسا صراط مستقیم ہے کہ کسی خاص زمانہ تک محدود نہیں جب سے انسان اس مسافر خانہ میں آیا تب سے اس قانون کو اپنے ساتھ لایا۔ جیسے اس کی فطرت میں ایک شق یہ موجود ہے کہ گناہ کی طرف رغبت کرتا ہے ایسا ہی یہ دوسرا شق بھی موجود ہے کہ گناہ سے نادم ہو کر اپنے اللہ کی راہ میں مرنے کیلئے تیار ہو جاتا ہے۔ زہر بھی اسی میں ہے اور تریاق بھی اسی میں ہے۔ یہ نہیں کہ زہر اندر سے نکلے اور تریاق جنگلوں سے تلاش کرتے پھریں ماسوا اس کے میں پوچھتا ہوں کہ اگر یہ سچ ہے کہ حضرت مسیح کے کفارہ پر ایمان لا کر کوئی شخص خاص طور کی تبدیلی پالیتا ہے تو اس کا کیوں ثبوت نہیں دیا گیا۔ میں نے بارہا اس بات کو پیش کیا اور اب بھی کرتا ہوں کہ وہ خاص تبدیلی اور وہ خاص پاکیزگی اور وہ خاص نجات اور وہ خاص ایمان اور وہ خاص لقاء الہی صرف اسلام ہی کے ذریعہ سے ملتا ہے اور ایمانداری کی علامات اس سے اسلام لانے کے بعد ظاہر ہوتی ہیں۔ اگر یہ کفارہ صحیح ہے اور کفارہ کے ذریعہ سے آپ صاحبان کو نجات مل گئی ہے اور حقیقی ایمان حاصل ہو گیا ہے تو پھر اس حقیقی ایمان کی علامات جو حضرت مسیح آپ لکھ گئے ہیں کیوں آپ لوگوں میں پائی نہیں جاتیں۔ اور یہ کہنا کہ وہ آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ہیں ایک فضول بات ہے۔ اگر آپ ایماندار کہلاتے ہیں تو ایمانداروں کی علامات جو آپ کیلئے مقرر کی گئی ہیں آپ لوگوں میں ضرور پائی جانی چاہئیں کیونکہ حضرت ۱۰۸ مسیح کا فرمودہ باطل نہیں ہو سکتا۔ مگر آپ غور سے دیکھیں کہ وہ علامات دین اسلام میں ایسے نمایاں طور پر پائی جاتی ہیں کہ آپ ان کے مقابلہ پر دم بھی تو نہیں مار سکتے میں نے انہیں کے لئے آپ کی خدمت میں عرض کیا تھا کہ آپ اگر بالمقابل کھڑے نہیں ہو سکتے تو ان علامتوں کو قرآن شریف کی تعلیم کے لحاظ سے پر کھو اور آزماؤ پھر اگر وہ واقعی سچی نکلیں تو راست بازوں کی طرح ان کو قبول کر لو مگر آپ نے بجز بنسی اور ٹھٹھا کے اور کیا جواب دیا۔ البقرة :١١٣