جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 193 of 502

جنگ مقدّس — Page 193

روحانی خزائن جلد ۶ 191 جنگ مقدس آپ فرماتے تھے کہ اس جنگ میں مجھے فتح ہے ضروری فتح ہے۔ جناب امتیاز کر سکتے ہیں کہ صورت مذکورہ بالا فتح کامل کی ہے یا معاملہ دیگر کی اور یہ جناب کی غلطی ہے فتح اور شکست کا لحاظ ہر گز نہیں چاہیے برعکس اس کے یہ کہ ہاں شکست ہو تو ہو لیکن یا اللہ تیری راستی ظاہر کی جائے۔ افسوس جناب میں وہ مزاج دیکھی نہ گئی۔ صاحب من عیسوی دین انیس سو برس سے جہان میں ہے اور ایک ایسا سندان ہے کہ اس پر بہت ہی مار توں گھس چکے ہیں اور اخیر تک گھستے رہیں گے۔ کیا انیس سو برس کی بات یہاں اور انھیں دنوں میں پلٹنے والی تھی جو لوگ دین مسیح کے مخالف ہیں ان کو دیکھ کر مجھے ایک قصہ یونانی یاد آتا ہے ایک سانپ کسی لوہار کے گھر میں جا گھسا زمین پر ریتی پڑی تھی زہر بھرا ہوا سانپ اس کے کاٹنے لگا۔ ریتی نے کہا کاٹ لے جہاں تک تیری مرضی ہے تیرے ہی دانت گھتے ہیں۔ صاحب من کوششیں تو آپ نے سب کیں پر دلیل عقلی کا مقابلہ نہ نقلی کا جواب بن پڑا اور جس الہام و کرامت پر آپ کو ناز تھا وہ بھی خام اور لاحاصل ٹھہرایا گیا۔ کوششیں بہت لیکن مباحثہ کے اس حصہ کا نتیجہ معلوم اور ہر ایک منصف مزاج پر ظاہر ۔ مرزائے من آپ تو بلند آواز سے فتح پکارتے رہے لیکن یہ فتح کسی اور پر شگفتہ نہ ہوئی۔ جناب من اس جنگ میں اور ہر جنگ میں امروز تا ابد شان و شوکت حشمت و جلال قدرت اختیار اور فتح لمسیح تا ابد خدائے مبارک کی ہے۔ آمین۔ دستخط بحروف انگریزی احسان اللہ قائم مقام ہنری مارٹن کلارک پریزیڈنٹ از جانب عیسائی صاحبان دستخط بحروف انگریزی غلام قا در صحیح پریزیڈنٹ از جانب اہل اسلام مطبوعہ ریاض ہند پر لیس امرتسر