جنگ مقدّس — Page 190
روحانی خزائن جلد ۶ ۱۸۸ جنگ مقدس کو اپنا نجات دہندہ سمجھتے ہیں۔ اور جب آپ نے مسئلہ پیش کیا کہ جب مسیح نے پوچھا کہ مسیح کس کا بیٹا ہے اور داؤد کیوں اس کو خداوند کہتا ہے ۔ تو چپ اور لا جواب ہو گئے ۔ کوئی جواب نہ دے سکا۔ صاحب من عقل کو قائل کرنا تو کچھ مشکل نہیں لیکن دل کی ضد کو دفع کرنا اللہ کا کام ہے۔ پھر جناب کی تقریر تھی کہ کراما تیں اسلام کے ساتھ ہیں ہمیں دیکھنے سے کوئی گریز نہیں۔ ساتھ یہ بھی بتائیے بالفرض اگر کوئی یا کئی کرامت وارد بھی ہوں تو ہم کس طرح جانیں کہ یہ منجانب اللہ ہیں استثنا کے اب جناب نے ہی سنائے کہ بیشک تمہارے پر کھنے کے لئے جھوٹے نبی بھی آجائیں گے اور کرامت پوری کریں گے۔ نیز مرقس کا م سنے گا۔ گلیوں کا سوجناب من (۹۷) نہ فقط کرامت کی ضرورت ہے بلکہ اس بات کی کہ ان نشانوں کو کیوں کر منجانب اللہ جانیں اور نہایت ادب سے عرض ہے کہ آپ کی کرامت سے میں دل شکستہ ہوں آپ فرما چکے ہیں کہ کرامت اور معجزہ میں فرق ہے نہیں جانتا کہ کیا۔ پھر آپ نے یہ فرمایا کہ ہم نہیں جانتے کہ وہ کس قسم کا نشان دکھلائے گا۔ اور پھر معلوم نہیں کہ خدا تعالیٰ کس طور کا نشان دکھلائے گا۔ جناب صاحب اس میں تحدی ماقبل معجزہ اور کرامات سے صاف گریز ہے۔ حالانکہ آپ اپنے رسالہ حجتہ الاسلام کے ۱۴۔۱۵۔۱۲۔۱۷۔ صفحہ میں اس بات کو تسلیم کر چکے تھے ۔ قصہ کوتاہ مرزا صاحب کیا ہی مبارک موقعہ پیش آیا تھا کہ آپ اپنے اس دعوئی کو جس کی نسبت خم ٹھوک کر کئی روز سے دعویٰ کرتے ہیں پایہ ثبوت تک پہنچاتے ۔ ہزار افسوس کہ آپ نے ایسے موقعہ کو ہاتھ سے جانے دیا اور اپنی لغوتا ویلات کو لا معنی اور بات الزامی سے اس موقعہ کو ٹال دیا۔ آپ کی اس پہلو تہی سے اس عاجز کی عقل ناقص میں یہ آتا ہے کہ آپ کا یہ دعوی سامان ہیں جن سے آپ اپنے مقلدوں کو خوش کرتے ہوتے ہیں از راہ خاوندی کے عیسائیوں کے رو برو ان کا ذکر پھر نہ کرنا ۔ اور ناحق زک اٹھانی پڑتی ہے جناب من ہم تو آپ کے علم اور روشن ضمیری کا چرچا بہت ہی سنتے رہے ہیں اور ہم کو آپ سے بہت امید تھی لیکن افسوس آپ نے وہی بحثیں اور وہی دلائل اور وہی باتیں پیش کیں جو کہ قریب چالیس سال سے اس ملک کے بازاروں میں چکر کھا رہی ہیں۔ مرزا صاحب