جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 189 of 502

جنگ مقدّس — Page 189

روحانی خزائن جلد ۶ ۱۸۷ جنگ مقدس میری عقل تو گواہی دیتی ہے کہ ذات پاک کو اس سے بڑھ کر ہونا چاہیے آپ کی وحدانیت میں کونسا مسئلہ سمجھ سے باہر ہے گویا محدود نے غیر محدود کوگھیر لیا ہے لیکن کثرت فی الوحدت ایک ایسا مسئلہ ہے کہ نہ ا سکے سمجھنے والا پیدا ہوا نہ ہوگا۔ کیا صاحب جانا جا سکتا ہے کہ انسانی عقل اللہ تعالیٰ کو سمجھے۔ تو بہ تو بہ۔ ذات الہی ایک ایسی شے ہے کہ نہ عقل سے ثابت کی جاسکتی ہے اور نہ عقل سے اس کی تردید کی جاسکتی ہے۔ معاملہ انسان کی عقل سے لاکھ ہا درجہ بڑھ کر ہے اور اس کا فیصلہ صاف اللہ تعالیٰ ہی کر سکتا ہے۔ خدا کی بات خدا ہی جانے اور میرا اور آپ کا حق مرزا صاحب نہ ۹۶ دلائل عقلی کے دوڑانے پر ہے لیکن تسلیم کرنا ہے۔ او صحیح تعلیم اللہ تعالیٰ کی کتابوں کی یہی ہے تعین اقنوم اور ایک خدا واحد تا ابد مبارک ہے۔ سیح خداوند کے حق میں نبی گواہی دیتے رہے نمونوں سے اللہ تعالی ظاہر کرتا رہا۔ قربانیوں میں حلال و حرام میں ختنہ میں ہیکل میں اور پھر ظاہر کرتا رہا کہ میں حق تعالی خود تمہارا نجات دہندہ ہوں۔ اور وقت پر کنواری حاملہ ہوگی اور بیٹا بنے گی اور نام اس کا تم نے رکھنا عمانوئیل یعنی خدا ہمارے ساتھ وقت پر آپ آئے پیدا ہوئے۔ آگے سلسلہ چلتا ہے فرشتوں کی گواہی کا ۔ حواریوں کی گواہی کا ۔ اپنے دعووں کا ۔ اپنی کرامت و معجزوں کا۔ ہاں خدا تعالیٰ کا خود بیچی بپ ٹشسما دینے والے کے ہاتھ سے بپ ٹما پا کر آپ پانی سے نکلتے ہیں اور روح القدس کبوتر کی طرح ان پر آتی ہے اور خدا تعالیٰ آسمان پر بلند آواز سے فرماتا ہے یہ میرا بیٹا ہے جس سے میں خوش ہوں۔ دیکھئے باپ بیٹا روح القدس موجود کیونکہ یہ تینوں ایک ہیں ۔ خیر میں زیادہ طول دینا نہیں چاہتا دشمنوں کی گواہی بھی موجود ہے شیطانوں کی گواہی موجود ہے جو چلا چلا کر کہہ رہے تھے کہ تو خدا کا قدوس ہے۔ رومیوں کی گواہی موجود ہے۔ پلاٹوس کی گواہی موجود ہے۔ جناب انجیل شریف میں آپ کے لئے سب گواہیاں موجود ہیں اور یہودی بھی سارے بے ایمان نہ تھے آپ کے فرمانے کے مطابق حواری بھی یہودی تھے ایک ہی وعظ سے تین ہزار عیسائی ہوئے یک لخت ۔ اگر چہ قوم مردود ہے قوم کا ہر ایک فرد مردود نہیں اور اب بھی ہزار ہا لاکھ ہا یہودی مسیح خداوند