جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 171 of 502

جنگ مقدّس — Page 171

روحانی خزائن جلد ۶ ۱۶۹ جنگ مقدس سے عاجز ہو اس کا جواب ڈپٹی صاحب موصوف مجھے یہ دیتے ہیں کہ جو کچھ زمین آسمان میں آفتاب و ماہتاب وغیرہ چیزیں مخلوق پائی جاتی ہیں یہ سچ کی بنائی ہوئی ہیں ۔ اب ناظرین اس جواب کی خوبی اور عمدگی کا آپ ہی اندازہ کرلیں کہ یہ ایک دلیل پیش کی گئی ہے یادوسرا ایک دعوئی پیش کیا گیا ہے۔ کیا ایسا ہی ہندو صاحبان نہیں کہتے کہ جو کچھ آسمان وزمین میں مخلوق پائی جاتی ہے وہ راجہ رام چند ر صاحب نے ہی بنائی ہوئی ہے۔ پھر اس کا فیصلہ کون کرے۔ پھر بعد اس کے ڈپٹی صاحب موصوف ایمانی نشانیوں کو کسی خاص وقت تک محدود قرار دیتے ہیں حالانکہ حضرت مسیح صاف لفظوں سے فرما رہے ہیں کہ اگر تم میں رائی کے برابر بھی ایمان ہو تو تم سے ایسی ایسی کرامات ظاہر ہوں۔ پھر ایک مقام یوحنا ۱۴ باب ۱۲ میں آپ فرماتے ہیں۔ میں تم سے سچ سچ کہتا ہوں کہ جو مجھ پر ایمان لاتا ہے جو میں کام کرتا ہوں وہ بھی کرے گا اور ان سے بھی بڑے بڑے کام کرے گا۔ اب دیکھئے کہ وہ تاویلات آپ کی کہاں گئیں۔ اس آیت میں تو حضرت مسیح نے صاف صاف فیصلہ ہی کر دیا اور فرما دیا کہ مجھ پر ایمان لانے والا میرا ہمرنگ ہو جائے گا اور میرے جیسے کام بلکہ مجھ سے بڑھ کر کرے گا اور یہ فرمودہ حضرت مسیح کا نہایت صحیح اور سچا ہے کیونکہ انبیا اسی لئے آیا کرتے ہیں کہ ان کی پیروی کرنے سے انسان انہیں کے رنگ سے زمین ہو جائے اور ان کے درخت کی ایک ڈالی بن کر وہی پھل اور وہی پھول لاوے جو وہ لاتے ہیں۔ ماسوا اس کے یہ بات ظاہر ہے کہ انسان ہمیشہ اپنے اطمینان قلب کا محتاج ہوتا ہے اور ہر ایک زمانہ کو تاریکی کے پھیلنے کے وقت نشانوں کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔ پھر یہ کیونکر ہو سکے کہ حضرت مسیح کے مذہب قائم رکھنے کے لئے اور اس خلاف تحقیقات عقیدہ حضرت مسیح کے ابن اللہ ٹھہرانے کے لئے کسی نشان کی کچھ بھی ضرورت نہ ہو اور دوسری قوم جن کو باطل پر خیال کیا جاتا ہے اور وہ نبی کریم صلعم جو قرآن کریم کو لایا اس کو خلاف حق سمجھا جاتا ہے اس کی پیروی کرنے والے تو قرآن کریم کے منشاء کے موافق خدا تعالیٰ کی توفیق اور فضل سے نشان دکھلا دیں مگر مسیحیوں کے نشان آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئے ہوں۔ اگر مسیحیوں میں نشان نمائی کی توفیق اب موجود نہیں ہے تو پھر خود سوچ لیں کہ ان کا مذہب کیا شے ہے۔ میں پھر سہ بارہ عرض کرتا ہوں کہ جیسا کہ اللہ جل شانہ کے سچے مذہب کی تین نشانیاں ٹھہرائی ہیں وہ اب بھی نمایاں طور پر اسلام میں