جنگ مقدّس — Page 165
روحانی خزائن جلد ۶ ۱۶۳ جنگ مقدس محبت ہے کیونکہ ایمان جب دوبدو ہو گیا تو ایمان رہا امید جب حاصل ہو گئی تو اتمام پاگئی مگر محبت بھی اتمام نہیں پاتی اور یہ بھی یادر ہے محبت خاص نام خدا کا ہے کہ خدا محبت ہے۔ ان سب امور سے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ معجزات جیسے کہ ہمیشہ کے واسطے موعود نہیں ہوئے ویسے ہی نجات کے بارہ میں سب سے اُوپر ان کا درجہ نہیں لیکن ایک وقت کے واسطے جب نئی تعلیم دی گئی اس کی تصدیق اور ۷۴ قائمی کے واسطے معجزے بخشے گئے اور اگر ہمیشہ معجزے ہوا کریں تو تاثیر معجزہ ہونے کی کچھ نہ رہے خلاصہ جس آیت سے جناب نے وعدہ عام کی کشش کی ہے ہم یہ دکھلاتے ہیں کہ اس کے متعلق معرفت بھی ہے اور وہ معرفت محض خاص ہے۔ اور متن کلام باب ۱۶ مرقس کو دیکھ کر جناب اس بیان کو کسی طرح سے غلط نہ ٹھہر اسکیں گے۔ ششم ۔ جناب فرماتے ہیں کہ مسیح نے بھی اقتداری معجزے دکھلانے سے انکار کیا۔ لیکن یہ جناب کی زیادتی ہے کہاں انکار کیا ؟ کیا جب لوگ نشان آسمانی کو دیکھ کر واسطے ٹھٹھ کرنے کے اور نشان آسمانی مانگتے تھے تو ارشاد ہوا کہ اس بد اور حرامکار گروہ کو کوئی نشان نہ دکھلایا جاوے گا ۔ اب انصاف فرمائیے کہ کیا نشان کے نہ دکھانے کے معنے یہ ہیں کہ نشان نہیں دکھلایا جا سکتا۔ کیا کوئی قادر شخص اگر یہ کہے کہ میں فلاں امرنہ کروں گا۔ تو اس کے معنے یہ ہیں کہ وہ نہیں کر سکتا ؟ متی ۹ اور یوحنااا اور لوقا لے وغیرہ ابواب میں نظائر معجزات صاف صاف دیکھ لو ۔ مجھے تو جناب کے فہم و ذکا سے اس سے زیادہ امید تھی کہ آپ ایسے معنے نہ کریں۔ ہفتم ۔ آپ جو فرماتے ہیں کہ مسیح نے دو گالیاں دیں۔ کیا بد کو بد کہنا گالی ہے اور یا حرامزادہ کو حرامزادہ کہنا گالی ہے۔ اگر جناب اسلام کے داب کلام کے موافق بھی کچھ کرتے تو ایک نبی اولو العزم اور معصوم کے اوپر ایسی بے مہذبانہ کلام نہ کرتے ۔