جنگ مقدّس — Page 163
روحانی خزائن جلد ۶ ۱۶۱ جنگ مقدس اس کو نہ سمجھے ۔ گزشتہ بحث پر جناب نظر غور پھر فرما کر دیکھ لیں اور یہ خصوصیت اور کسی بزرگ کے ساتھ نہ تھی جو مسیح کے ساتھ تھی۔ چہارم ۔ اس کا بھی لوگ انصاف کر لیں گے جو مرزا صاحب کہتے ہیں کہ ہم نے صرف لفظ کے ساتھ نجات کا دعویٰ کیا ہے اور صرف لفظ ہی استعمال کیا ہے ۔ کیوں صاحب ہماری آیات محولہ کتب مقدسہ سے کس لئے بے تو جگی رہی ۔ کیوں نہ ان کا کچھ نقص دکھلایا گیا پیشتر اس سے کہ بے تو جگی رکھی جاتی ۔ پنجم ۔ مرقس کے باب ۱۶ کے بموجب جو مرزا صاحب ہم سے نشان طلب کرتے ہیں بجواب اُس کے واضح ہو کہ وعدہ کی عمومیت پر ہمارا کچھ عذر نہیں کہ جو ایمان لائے اُس کے ساتھ یہ علامتیں ہوں۔ الا سوال یہ ہے کہ اُس وعدہ کی عمومیت کے ساتھ کیا معرفت بھی عام ہے؟ کیا حواری اس ضعف ایمانی کے واسطے کہ اُنہوں نے معتبر گواہوں کی گواہی اور خداوند کے وعدہ کی باتیں اور انبیاء سلف کی پیش خبریاں نہ مانی تھیں ؟ جھڑ کی نہ کھائی تھی کہ اور کیا ہمارے خداوند کا یہ دستور نہ تھا کہ جس کو وہ تنبیہ فرماتا تھا اُسی کو تقویت بھی بخشتا تھا۔ اور جب اُس نے ایسا فرمایا کہ تم جاؤ دنیا میں کہ جب کوئی ایمان لاوے گا ۔ اُس کے ساتھ یہ نشان ہوں گے تو اس کا مطلب یہ نہ ہوا کہ معجزہ کی بابت تم ضعیف الایمان ہوئے ۔ اب آئندہ کو معجزات تمہارے ہاتھ سے یہ نکلیں گے ۔ کیا یہ جھڑ کی ہمارے اس زمانہ کے پادریوں نے بھی کھائی تھی ۔ یہ تو ہم نے تسلیم کیا کہ وعدہ عام ہے لیکن اس کو دکھلاؤ کہ معرفت بھی عام ہے جس کے وسیلہ سے یہ امر پورا ہونے والا ہے۔ ہم نے باب ۱۶ مرقس سارا آپ کو سنا دیا ہے جو ہم نے بیان کیا ۔ یہی صورت وہاں موجود ہے یا نہیں ۔ پس جب معرفت خاص تھی تو حواریوں کے زمانہ کے بعد اس وعدہ کی کشش بے جا ہے کہ نہیں ۔ تکمیل اس وعدہ کے بارہ میں اعمال دیکھو کہ کیا یہ لکھا ہے یا نہیں کہ یوحنا اور