جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 150 of 502

جنگ مقدّس — Page 150

روحانی خزائن جلد ۶ ۱۴۸ جنگ مقدس مغفرت کے لئے بھی قانون قدرت رکھا ہے جو ابھی میں نے بیان کیا ہے اور در حقیقت اس قانون قدرت میں جو طبعی اور ابتدا سے چلا آتا ہے ایسی خوبی اور عمدگی ہے جو ایک ہی انسان کی سرشت میں خدا تعالیٰ نے دونوں چیز میں رکھ دی ہیں جیسے اس کی سرشت میں گناہ رکھا ہے ویسا ہی اس گناہ کا علاج بھی رکھا اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایسے طور سے زندگی وقف کر دی جائے کہ جس کو سچی قربانی کہہ سکتے ہیں اب مختصر بیان یہ ہے کہ آپ کے نزدیک یہ طریق نجات کا جو قرآن شریف نے پیش کیا ہے بیج نہیں ہے تو اول آپ کو چاہیے کہ اس طریق کے مقابل پر جو حضرت مسیح کی زبان سے ثابت ہوتا ہے اس کو ایسا ہی مدلل اور معقول طور پر ان کی تقریر کے حوالہ سے پیش کریں پھر بعد اس کے انہیں کے قول مبارک سے اس کی نشانیاں بھی پیش کریں تا کہ تمام حاضرین جو اس وقت موجود ہیں ابھی فیصلہ کر لیں ۔ ڈپٹی صاحب! کوئی حقیقت بغیر نشانوں کے ثابت نہیں ہو سکتی دنیا میں بھی ایک معیار حقائق شناسی کا ہے کہ ان کو ان کی نشانیوں سے پر کھا جائے سو ہم نے تو وہ نشانیاں پیش کر دیں اور ان کا دعوئی بھی اپنی نسبت پیش کر دیا اب یہ قرضہ ہمارا آپ کے ذمہ ہے اگر آپ پیش نہیں کریں گے اور ثابت کر کے نہیں دکھلائیں گے کہ یہ طریق نجات جو حضرت مسیح کی طرف منسوب کیا جاتا ہے کس وجہ سے سچا اور صحیح اور کامل ہے تو اس وقت تک آپ کا یہ دعویٰ ہر گز صحیح نہیں سمجھا جا سکتا بلکہ قرآن کریم نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ صحیح اور سچا ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس نے صرف بیان ہی نہیں کیا بلکہ کر کے بھی دکھا دیا اور اس کا ثبوت میں پیش کر چکا ہوں آپ براہ مہربانی اب اس نجات کے قصہ کو بے دلیل اور بے وجہ صرف دعوئی کے طور پر پیش نہ کریں۔ کوئی صاحب آپ میں سے کھڑے ہو کر اس وقت بولیں کہ میں بموجب فرمودہ حضرت مسیح کے نجات پا گیا ہوں اور وہ نشانیاں نجات کی اور کامل ایمانداری کی جو حضرت مسیح نے مقرر کی تھیں وہ مجھ میں موجود ہیں پس ہمیں کیا انکار ہے۔ ہم تو نجات ہی چاہتے ہیں لیکن زبان کی نسانی کو کوئی قبول نہیں کر سکتا ۔ میں آپ کی خدمت میں عرض کر چکا ہوں کہ قرآن ނ