جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 151 of 502

جنگ مقدّس — Page 151

روحانی خزائن جلد ۶ ۱۴۹ جنگ مقدس کا نجات دینا میں نے بچشم خود دیکھ لیا ہے۔ اور میں پھر اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں بالمقابل اس بات کو دکھلانے کو حاضر ہوں لیکن اوّل آپ دو حرفی مجھے جواب دیں کہ آپ کے مذہب میں بچی نجات معہ اس کی علامات کے پائی جاتی ہے یا نہیں اگر پائی جاتی ہے تو دکھلاؤ۔ پھر اس کا مقابلہ کرو۔ اگر نہیں پائی جاتی تو آپ صرف اتنا کہہ دو کہ ہمارے مذہب میں نجات نہیں پائی جاتی۔ پھر میں یک طرفہ ثبوت دینے کے لئے مستعد ہوں۔ دستخط بحروف انگریزی دستخط بحروف انگریزی غلام قادر فصیح ہنری مارٹن کلارک پریزیڈنٹ از جانب اہل اسلام پریزیڈنٹ از جانب عیسائی صاحبان بیان ڈپٹی مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب بقیه جواب : جو مرزا صاحب نے فرمایا کہ مسیح نے اسی وقت ایسا یا ویسا ثبوت کیوں نہ دیا جب اس پر الزام کفر کا لگا کر پتھراؤ کرنا چاہتے تھے تا کہ ظاہر ہو جاتا کہ فی الواقع اللہ ہی ہے۔ مجھے اس پر ایک قصہ یاد آیا کہ ایک شخص نے مجھ سے کلام کرتے ہوئے یہ کہا کہ خدا تعالیٰ نے یہ کیا کوتاہ بینی کی کہ دو آنکھیں پیشانی کے نیچے ہی لگا دی ہیں ایک سر میں کیوں نہ لگا دی کہ وہ اوپر کی بلیات سے اپنے آپ کو محفوظ رکھتا اور ایک پیٹھ میں کیوں نہ لگادی کہ پیچھے سے دیکھ سکتا اب اس میں حیرانی ہے کہ کیا ایک بے چون و چرا پر اس قسم کی چون و چرا جائز ہے یہ کہنا معقول نہیں ہے کہ ایسا اور ویسا کیوں نہ کیا مگر یہ معقول ہے کہ جو کیا گیا ہے اس کو بمعرض اعتراض لایا جائے ۔ ہم پوچھتے ہیں کہ کیا یہودیوں کا ۲۴۶ الزام یہی نہ تھا کہ تو انسان ہو کر خدا بنتا ہے یہ کفر ہے۔ اور جواب اس کا یہ ہوا کہ میں انسان ہو کر بھی اپنے آپ کو ابن اللہ کہہ سکتا ہوں اور کفر نہیں ہوتا جیسے نبی اللہ بھی تو انسان تھے اور ان کو اللہ کہا گیا تو پس اس میں سوال اس کی الوہیت کے متعلق کو نسا تھا۔