جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 149 of 502

جنگ مقدّس — Page 149

روحانی خزائن جلد ۶ اور ۔ ۱۴۷ جنگ مقدس والے نجات پا جاتے ہیں تو ضرور اس نجات یابی کی علامات بھی اس کتاب میں لکھی ہوں گی ریچے ایماندار جو نجات پا کر اس دنیا کی ظلمت سے مخلصی پا جاتے ہیں ان کی نشانیاں ضرور انجیل میں کچھ لکھی ہوں گی۔ آپ براہ مہربانی مجھ کو مختصر جواب دیں کہ کیا وہ نشانیاں آپ صاحبوں کے گروہ میں یا بعض ایسے صاحبوں میں جو بڑے بڑے مقدس اور اس گروہ کے سردار اور پیشوا اور اول درجہ پر ہیں پائی جاتی ہیں اگر پائی جاتی ہیں تو ان کا ثبوت عنایت ہو اور اگر نہیں پائی جاتیں تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ جس چیز کی صحت اور درستی کی نشانی نہ پائی جائے تو کیا وہ چیز اپنے اصل پر محفوظ اور قائم کبھی جائے گی مثلاً اگر تر بد یا سقمونیا یا سنا میں خاصہ اسہال کا نہ پایا جائے کہ وہ دست آور ثابت نہ ہو تو کیا اس تر بد کوتر بد موصوف یا سقمونیا خالص کہہ سکتے ہیں اور ماسوا اس کے جو آپ صاحبوں نے طریق نجات شمار کیا ہے جس وقت ہم اس طریق کو اس دوسرے طریق کے ساتھ جو قرآن کریم نے پیش کیا ہے مقابل کر کے دیکھتے ہیں تو صاف طور پر آپ کے طریق کا تصنع اور غیر طبعی ہونا ثابت ہوتا ہے اور یہ بات یہ پایہ ثبوت پہنچتی ہے کہ آپ کے طریق میں کوئی صحیح راہ نجات کا قائم نہیں کیا گیا مثلا دیکھئے کہ اللہ جل شانه قرآن کریم میں جو طریق پیش کرتا ہے وہ تو یہ ہے کہ انسان (۲۰) جب اپنے تمام وجود کو اور اپنی تمام زندگی کو خدا تعالیٰ کے راہ میں وقف کر دیتا ہے تو اس صورت میں ایک سچی اور پاک قربانی اپنے نفس کے قربان کرنے سے وہ ادا کر چکتا ہے۔ اور اس لائق ہو جاتا ہے کہ موت کے عوض میں حیات پاوے کیونکہ یہ آپ کی کتابوں میں بھی لکھا ہے کہ جو خدا تعالیٰ کی راہ میں جان دیتا ہے وہ حیات کا وارث ہو جاتا ہے۔ پھر جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی تمام زندگی کو وقف کر دیا اور اپنے تمام جوارح اور اعضاء کو اس کی راہ میں لگا دیا تو کیا اب تک اس نے کوئی بچی قربانی ادا نہیں کی۔ کیا جان دینے کے بعد کوئی اور بھی چیز ہے جو اس نے باقی رکھ چھوڑی ہے لیکن آپ کے مذہب کا عدل تو مجھے سمجھ نہیں آتا کہ زید گناہ کرے اور بکر کو اس کے عوض میں سولی دیا جائے آپ اگر غور اور توجہ سے دیکھیں تو بے شک ایسا طریق قابل شرم آپ پر ثابت ہو گا خدا تعالیٰ نے جب سے انسان کو پیدا کیا انسان کی