جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 148 of 502

جنگ مقدّس — Page 148

روحانی خزائن جلد ۶ ۱۴۶ جنگ مقدس میں وہ سب کچھ دیا گیا جو تم مانگو یہ مہمانی ہے غفور رحیم سے۔ اب دیکھئے اس آیت میں مکالمہ الہیہ اور قبولیت اور خدا تعالیٰ کا متولی اور متکفل ہونا اور اسی دنیا میں بہشتی زندگی کی بناڈالنا اور ان کا حامی اور ناصر ہونا بطور نشان کے بیان فرمایا گیا۔ اور پھر اس آیت میں جس کا کل ہم ذکر کر چکے ہیں یعنی یہ کہ تُؤْتِي أَكُلَهَا كُلَّ حِينٍ اسی نشانی کی طرف اشارہ ہے کہ بچی نجات کا پانے والا ہمیشہ اچھے پھل لاتا ہے اور آسمانی برکات کے پھل اس کو ہمیشہ ملتے رہتے ہیں اور پھر ایک اور مقام میں فرماتا ہے وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّى فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَتَجِبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي (٥٩) لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ (س۷٫۲ ) اور جب میرے بندے میرے بارہ میں سوال کریں تو ان کو کہہ دے کہ میں نزدیک ہوں یعنی جب وہ لوگ جو اللہ رسول پر ایمان لائے ہیں یہ پتہ پوچھنا چاہیں کہ خدا تعالیٰ ہم سے کیا عنایات رکھتا ہے جو ہم سے مخصوص ہوں اور غیروں میں نہ پائی جاویں۔ تو ان کو کہہ دے کہ میں نزدیک ہوں یعنی تم میں اور تمہارے غیروں میں یہ فرق ہے کہ تم میرے مخصوص اور قریب ہو اور دوسرے مہجور اور دور ہیں جب کوئی دعا کرنے والوں میں سے جو تم میں سے دعا کرتے ہیں دعا کرے تو میں اس کا جواب دیتا ہوں یعنی میں اس کا ہم کلام ہو جاتا ہوں اور اس سے باتیں کرتا ہوں اور اس کی دعا کو پایہ قبولیت میں جگہ دیتا ہوں پس چاہیے کہ قبول کریں حکم میرے کو اور ایمان لاویں تا کہ بھلائی پاویں ایسا ہی اور کئی مقامات میں اللہ جل شانہ نجات یافتہ لوگوں کے نشان بیان فرماتا ہے اگر وہ تمام لکھے جاویں تو طول ہو جائے گا جیسا کہ ان میں سے ایک یہ بھی آیت ہے يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانًا (س ۹ - ۱۸ سورۃ الانفال) که اے ایمان والو اگر تم خدا تعالیٰ سے ڈرو تو خدا تم میں اور تمہارے غیروں میں مابہ الامتیاز رکھ دے گا۔ اب میں ڈپٹی عبداللہ آتھم صاحب سے بادب دریافت کرتا ہوں کہ اگر عیسائی مذہب میں طریق نجات کا کوئی لکھا ہے اور وہ طریق آپ کی نظر میں صحیح اور درست ہے اور اس طریق پر چلنے ا ابراهیم ۲۶ البقرة : ۱۸۷ الانفال: ٣٠