جنگ مقدّس — Page 142
روحانی خزائن جلد ۶ ۱۴۰ جنگ مقدس وہی بحال رہا۔ پھر مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب نے جواب ۸ بجے ۵۱ منٹ پر شروع کیا اور ۹ بجے ۲۲ منٹ پر ختم کیا۔ پھر مرزا صاحب نے ۹ بجے ۳۰ منٹ پر جواب لکھانا شروع کیا اور ۱۰ بجے ۳۰ منٹ پر ختم کیا۔ بعد ازاں فریقین کی تحریروں پر میر مجلس صاحبان کے دستخط کئے گئے اور مصدقہ تحریریں فریقین کو دی گئیں اور جلسہ برخاست ہوا۔ دستخط بحروف انگریزی ہنری مارٹن کلارک دستخط بحروف انگریزی غلام قا در فصیح پریزیڈنٹ از جانب عیسائی صاحبان پریزیڈنٹ از جانب اہل اسلام بیان ڈپٹی عبد اللہ آ نتقم صاحب ہمارا بیان یہ ہے کہ مسیح کامل انسان اور کامل مظہر اللہ ہے بروئے کلام الہی ان دو امروں کا انکار ہونا محال ہے لیکن بالیقین یہودی اس کو مظہر اللہ نہیں جانتے تھے پھر جب کبھی اس کے منہ سے اس کے مظہر اللہ ہونے کا کوئی لفظ نکل آتا تھا تو یہودی اس پر الزام کفر کا لگا کر سنگسار کرنے پر آمادہ ہوتے تھے۔ چنانچہ موقع متنازعہ کی بھی یہی صورت ہے اور اس موقعہ پر مسیح نے فرمایا کہ اگر میں اپنی انسانیت سے بھی اپنے آپ کو ابن اللہ کہوں تو اس سے زیادہ کچھ نہیں جیسے تمہارے نبی بھی خدا کہلائے تو میرا کہنا ان سے زیادہ بڑھ کر بہ نسبت اس کی انسانیت کے بھی نہیں ہے۔ پس یہاں اس نے اپنے مظہر اللہ ہونے کا انکار کیونکر کیا۔ مظہر اللہ ہونے کی آیات تو ہماری محولہ فہرست دیروزہ میں بھی موجود ہیں۔ اس کو کس خوش فہمی سے مرزا صاحب رد کرتے ہیں۔ کونسا امران میں اس کے بطلان کا پکڑا۔ کیا جو امر خاص متعلق مسیح کی انسانیت کے ہے وہ منافی اس کی الوہیت یا مظہر اللہ ہونے کا بھی ہو سکتا ہے۔ ہر گز کسی قانون سے نہیں۔ حق تو یہ ہے کہ وہ اپنی انسانیت میں بھی مخصوص اور مرسلہ شخص تھا۔ وہ لفظ جس کا ترجمہ مخصوص ہے یونانی میں