جنگ مقدّس — Page 143
روحانی خزائن جلد ۶ ۱۴۱ جنگ مقدس ہے گی ایڈزو ہے جس کے معنی مقدس اور بھیجا گیا۔ جو لفظ ہے اس کا ایما اس پر ہے کہ وہ فرمایا کرتا تھا کہ میں آسمان پر سے ہوں تم زمینی ہو یعنی میں آسمان سے زمین پر بھیجا گیا ہوں اور ہمارے شارح اکثر اس کے معنے الوہیت کے کرتے ہیں۔ پھر کیا مرزا صاحب نے اسے باب ا یوحنا میں یہ نہ دیکھا کہ جیسے مسیح نے اولاً یہ دعوی کیا تھا کہ میں اور باپ ایک ہیں جس پر یہودیوں نے پتھر اٹھائے تھے اس زعم سے کہ وہ انسان مخلوق ہو کر دعویٰ اللہ ہونے کا کرتا ہے پھر جب اس نے اپنی انسانیت کو بھی اس الزام سے بچا لیا تو پھر وہی دعویٰ پیش کر دیا کہ میں اور باپ ایک ہیں۔ پس جناب یہ کیونکر فرماتے ہیں کہ وہ ڈر گیا۔ بجائے ڈرنے کے اور بھی اس نے کھلا کھلی دعوی الوہیت کو پیش کیا تو یہ میچ ہے کہ ایک موقع پر خداوند مسیح نے فرمایا کہ میں اس گھڑی سے آگاہ نہیں اور دوسرے موقع پر فرمایا کہ میرے دائیں اور بائیں بٹھلانا میرا اختیاری نہیں لیکن یہ کلمات نسبت اس کی انسانیت سے رکھتے ہیں کیونکہ الوہیت کے کلمات اور میں چنانچہ یہ کہ زمین و آسمان کا اختیار مجھ کو حاصل ہے اور پھر یہ بھی صحیح ہے کہ ایک موقع پر خداوند نے فرمایا کہ تو مجھے نیک کیوں کہتا ہے جب کہ نیک سوائے خدا کے کوئی نہیں مگر یہ فرمانا اس کا اس شخص سے تھا جو اس کو منجی اور مالک ہر شے کا نہیں مانتا تھا چنانچہ جب اس نے اخیر میں اس سے کہا کہ اگر تو کامل ہوا چاہتا ہے تو سارا اپنا مال غرباء کو دے ڈال اور میرے پیچھے ہوئے مگر وہ اس سے دلگیر ہو کر چلا گیا اور اگر وہ اس کو خدا اور مالک جانتا اور یہ کہ وہ اس سے ہزار چند بخش سکتا ہے تو کبھی بھی دلگیر ہو کر نہ جاتا اس سے ظاہر ہے کہ وہ قائل اس کی الوہیت کا نہ تھا۔ اسی واسطے خداوند نے فرمایا کہ تب تو مجھے نیک بھی کیوں کہتا ہے یعنی مکار کیوں بنتا ہے کیونکہ تو جانتا ہے کہ نیک سوائے خدا کے اور کوئی نہیں۔ (۲) جناب مرزا صاحب نے کمال ہونے راہ نجات پر قرآن سے کچھ نہیں فرمایا پھر ہماری اور کوئی (۵۵ چیز کس مصرف کی ہے بقول مسیح کہ اگر ہم جہان کو حاصل کریں اور جان کو کھود میں تو فائدہ کیا ہوا ۔ پس سب سے اول لازم اور واجب ہے کہ نجات کی بابت قرآن میں کمال دکھلایا جاوے۔ بیت