جنگ مقدّس — Page 129
روحانی خزائن جلد ۶ ۱۲۷ جنگ مقدس قوموں اور تمام زمانوں کی تعلیم اور تکمیل کے لئے آیا ہے مثلا نظیر کے طور پر بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت موسی کی تعلیم میں بڑا زور سزا دہی اور انتقام میں پایا جاتا ہے جیسا کہ دانت کے عوض دانت اور آنکھ کے عوض آنکھ کے فقروں سے معلوم ہوتا ہے اور حضرت مسیح کی تعلیم میں بڑا زور عفوا ور در گذر پر پایا جاتا ہے لیکن ظاہر ہے کہ یہ دونوں تعلیمیں ناقص ہیں نہ ہمیشہ انتقام سے کام چلتا ہے اور نہ ہمیشہ عفو سے بلکہ اپنے اپنے موقعہ پر نرمی اور درشتی کی ضرورت ہوا کرتی ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے جَزَؤُا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَ أَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى الله (س ۲۵ (۵) یعنی اصل بات تو یہ ہے کہ بدی کا عوض تو اسی قدر بدی ہے جو پہنچ گئی ہے لیکن جو شخص عفو کرے اور عضو کا نتیجہ کوئی اصلاح ہو نہ کہ کوئی فساد یعنی عفو اپنے محل پر ہو نہ غیر محل پر ۔ پس اجر اس کا اللہ پر ہے یعنی یہ نہایت احسن طریق ہے۔ اب دیکھئے اس سے بہتر اور کونسی تعلیم ہوگی کہ عضو کو عفو کی جگہ اور انتقام کو انتقام کی جگہ رکھا۔ ۴۲۵ اور پھر فرمایا اِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَابْتَانِ ذِي الْقُربى - (۱۴ - (۱۹) یعنی اللہ تعالی حکم کرتا ہے کہ تم عدل کرو اور عدل سے بڑھ کر یہ ہے کہ باوجود رعایت عدل کے احسان کرو اور احسان سے بڑھ کر یہ ہے کہ تم ایسے طور سے لوگوں سے مروت کرو کہ جیسے کہ گویا وہ تمہارے پیارے اور ذوالقربیٰ ہیں۔ اب سوچنا چاہیے کہ مراتب تعین ہی ہیں۔ اول انسان عدل کرتا ہے یعنی حق کے مقابل حق کی درخواست کرتا ہے۔ پھر اگر اس سے بڑھے تو مرتبہ احسان ہے۔ اور اگر اس سے بڑھے تو احسان کو بھی نظر انداز کر دیتا ہے اور ایسی محبت سے لوگوں کی ہمدردی کرتا ہے جیسے ما اپنے بچہ کی ہمدردی کرتی ہے یعنی ایک طبعی جوش سے نہ کہ احسان کے ارادہ سے۔ (باقی آئندہ) دستخط بحروف انگریزی دستخط بحروف انگریزی غلام قا در فصیح ۔ پریزیڈنٹ ہنری مارٹن کلارک ۔ پریزیڈنٹ از جانب اہل اسلام از جانب عیسائی صاحبان الشورى : ام النحل: ٩١