جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 123 of 502

جنگ مقدّس — Page 123

روحانی خزائن جلد ۶ ۱۲۱ جنگ مقدس بھی کہیں تعظیم و تذلیل ہو سکتی ہے۔ کیا سرسید کا نام سرسید احمد ان بھی ہوسکتا ہے؟ یہ ڈھکوسلہ بازی نہیں تو اور کیا ہے؟ سرسید صاحب نے فرمایا ہے کہ تعلیم اور استرافیم میں یدکی میم تعظیمیہ ہے وہ بھی باطل بلکہ البطل ہے اس لئے یہ فرضی دیوتا تھے واقعی اشخاص نہ تھے اور بروئے مورتہائے ان کی کے متفرق جگہوں میں پوجے جاتے تھے اور کثرت مورتوں کے لحاظ سے کثرت ناموں میں رکھی گئی جیسے کہ جسمیر سے کرشن یا رام چندر کی مورتیں آتی ہیں جن کی بابت کہا جاتا ہے کہ ہمارا بیو پار کرشنوں اور رام چندروں کا ہے۔ غرض ہماری یہ ہے کہ نام خاص میں تعظیم اور تذلیل کچھ نہیں۔ سوم۔ ایک امر جو ادراک سے باہر ہو اس کا امکان تو عقل ہے ہم پیش کریں گے اور واقعہ ہونا کلام سے۔سوالہامی کتابوں سے ہم نے الوہیت مسیح اور مسئلہ تثلیث فی التوحید کو بخوبی پیش کر دیا ہے اور امکان بھی عقل سے دکھلا دیا ہے۔ پس اب ہمارے ذمہ بار ثبوت کچھ باقی نہیں۔ چہارم ۔ الہام کا مشرح الہام ہی ہونا چاہیے۔ اس بارہ میں آپ کا فرمانا بہت سا درست ہے اور افضل ہے کیونکہ اگر الہام کسی جگہ مجمل اور مبہم معلوم ہو تو دوسرے موقعہ الہام سے اس کی شرح اچھی طرح ہو سکتی ہے لیکن اگر کسی الہام میں کوئی تعلیم ایک ہی موقع پر ہو اور وہ بھی مشرح نہ ہو تو تا ویل عقلی کو اس میں گنجائش ہے۔ ہم اس کو ر دیات میں نہیں پھینک سکتے ہیں بلکہ وہاں اس کی تاویل عقلی کریں گے۔ پنجم ۔ وہ جو خداوند مسیح نے کہا کہ تم میرے ابن اللہ کہنے پر کفر کا الزام کیوں لگاتے ہو کیا تمہارے قضات اور بزرگوں کو الو ہیم نہیں کہا گیا۔ ان پر کفر کا الزام نہیں ہے تو مجھ پر کیوں؟ اس سے اس نے اپنی الوہیت کا انکار کچھ نہیں کیا۔ مگر ان کے غصہ کو بیجا ٹھہرایا اور تھام دیا۔ علاوہ براں مستی کے ۱۶ باب ۱۳ تا ۱۶ میں اس خطاب کو خداوند نے حواریوں سے منظور بھی فرمایا کہ وہ زندہ خدا کا بیٹا ہے۔ پھر مستی ۲۶ ۶۳ میں مرقوم ہے تب سردار کا ہن نے اسے کہا میں تجھے زندہ خدا کی قسم دیتا ہوں۔ اگر تو مسیح خدا کا بیٹا ہے تو ہم سے کہہ۔ یسوع نے اسے کہا۔ ہاں۔وہ جو تو کہتا ہے۔(باقی آئندہ) دستخط بحروف انگریزی دستخط بحروف انگریزی ہنری مارٹن کلارک پریزیڈنٹ از جانب عیسائی صاحبان غلام قادر فصیح پریزیڈنٹ از جانب اہل اسلام