جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 122 of 502

جنگ مقدّس — Page 122

روحانی خزائن جلد ۶ ۱۲۰ جنگ مقدس مانند ہو گیا۔ اس آیت میں جس جملہ کا ترجمہ یہ ہے کہ ہم میں سے ایک کی مانند ہو گیا ( عبرانی میں کاحد ممنو ہے ) اس جملے متکلم مع الغیر کو دیکھ کر یہودیوں نے یہ معنے کئے ہیں کہ خدا تعالی اس موقعہ پر فرشتگان کو اپنی معیت میں لیتا ہے اور سرسید احمد خاں بہادر نے یہ لکھا ہے کہ غیر اس جملہ میں وہ آدم با طبقہ ماقبل آدم معروفہ کے ہیں جو گناہ کر کے تباہ ہو گئے۔ اور کلمہ لو ممنو میں متکلم مع الغیر نہیں بلکہ جمع غائب ہے۔ مرادان دونوں صاحبوں کا یہ ہے کہ کثرت فی الوحدت کی تعلیم ثابت نہ ہونے پائے۔ دوم ۔ اب ہم ان صاحبوں سے سوال ذیل رکھتے ہیں۔ اوّل یہودیوں سے یہ کہ آپ کے فرشتوں کا مرجوع متن کلام میں کہاں ہے۔ کیا صیغہ ہم کا اسم ضمیر نہیں؟ اور کیا اسم ضمیر کے لئے مرجوع کا ہونا اس کے قرب میں ضرور نہیں ؟ اور اگر کوئی کلام بغیر مرجوع کی نشاندہی کے در خود نہ ہو تو کیا اس کو مبہم اور مخبط نہیں کہتے ؟ جیسا کہ اگر میں کسی سے کہوں کہ وہ بات یوں تھی اور قبل اور مابعد میں اس کا ذکر نہ ہو کہ کونسی بات ۔ تو کیا یہ خبط کلامی نہیں ؟ پس جب فرشتگان کا ذکر معیت میں کرتے ہیں تو ان کو متن ہی میں ان فرشتوں کو دکھانا چاہیے۔ دوم اگر فرشتے ہی اس کے مصداق ہو دیں تو ضرور ہے کہ بدی کا علم ان کا ذاتی ہو یا کسی ۔ اگر ذاتی ہوتو وہ مخلوق نہیں ہو سکتے کیونکہ علم ذاتی قائم بالذات کا ہوتا ہے اور اگر کسی ہو تو یہ کب ان کو نا پاک کر دیتا ہے تو پس وہ صحبت اقدس خالق کے لائق کیونکر ہوئی جو معیت میں اس کے لئے جاویں۔ سرسید صاحب سے اول سوال ہمارا وہی ہے کہ متن میں مرجوع ان آدم ہا کا جو ماقبل آدم معروف کے متصور ہیں کہاں ہیں۔ فی متن تو در کنار جناب کے جیالوجی میں بھی کہاں ہے کہ جس کا فخر جناب کرتے ہوں ماسوا اس کے اگر جیالوجی سے گذر کر کسی اور سائنس میں ہووے تو اس کا پتہ دیو ہیں۔ ہم یقین کرتے ہیں کہ وہ ہرگز ایسا پتہ نہ دے سکیں گے اور نہ اس عہدہ برائی سے یہودی باہر آ سکتے ہیں مگر مسیحیوں کا منہ بند کرنے کے لئے خیالات باطلہ پیش کرتے ہیں اور اس سے صاف تو فقرہ کیا ہو سکتا ہے اور کیا تاویل ایسے فقرہ کی ہو سکتی ہے کہ دیکھو انسان نیک و بد کی پہچان میں ہم میں سے ایک کی مانند ہو گیا ۔ لغت و اصطلاح منطق و معانی ۳۲ صرف ونحو ان سارے معیاروں کے آگے ہم اس فقرہ کو رکھتے ہیں ۔ سرسید احمد خاں بہادر نے جو الوہیم میں جمع تعظیمی بیان کی۔ حضرت ہم کو کہیں سے دکھلا دیویں کہ نیچر میں یا واقعات میں اسماء خاص میں