جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 121 of 502

جنگ مقدّس — Page 121

روحانی خزائن جلد ۶ ۱۱۹ جنگ مقدس دوم ۔ انجیل اپنے تئیں نجات کے ازلی بھید کا کاشف کہتی ہے۔ (رومی ۱۶ باب ۲۵ ۲۶) (پطرس کا پہلا خط ۔ باب ۲۰) ۔ سوم ۔ انجیل اپنے تئیں خدا کی قدرت کہتی ہے۔ ( رومی ایک باب ۱۶)۔ چہارم ۔ انجیل اپنے تئیں زندگی اور بقا کی روشنی کرنے والی کہتی ہے ( مطاؤس کا دوسرا خط باب ۱۶) پنجم ۔ انجیل انسانی حکمت کا نہیں لیکن اپنے تئیں خدا کی روح کا فرمایا ہوا کلام فرماتی ہے ۔ ( قرنتیوں کے نام کا پہلا خط ۲ باب ۱۲و۱۳ و پطرس کا دوسرا خط پہلا باب ۱۹) ششم ۔ اس انجیل کے مقابل میں ہر ایک انجیل بیچی ہے ( گلاتی کے نام کا خط اباب ۸) پس یہ وہ امور ہیں کہ جو کلام اللہ کی فضیلت و کاملیت و خوبی و فیض رسانی پر دال ہیں نہ وہ امور جو معاشرت کے متعلق ہیں کہ جن کی نسبت حکیم وڈاکٹر بھی انسان کو واجبی شرح بتا سکتے ہیں۔ جناب نے جوفر مایا قرآن میں لکھا ہے اکملت لکم دینکم غالبا بروئے متن کلام قرآن متعلق معاشرت کے ہے کہ جس میں حل وحرمت کا ذکر ہے۔ بجواب اعتراضات ۲۴ مئی ۱۸۹۳ء اوّل۔ استقراء کے معنے ہم سمجھ چکے ہیں کہ معمول اور گذشتہ پیوستہ میں جو تجر بہ قانون بتاتا ہے اس کو استقراء کہتے ہیں۔ اس کے بارہ میں جناب مرزا صاحب کا فرمانا درست ہے کہ اگر کچھ استثناء اس کا ہو تو امکان محض اس کا ثابت کرنا کافی نہیں ہے مگر واقعی اس کا ثابت کرنا ضروری ہے۔ سواس کے بارہ میں عرض اتنی ہے کہ مقدمہ مسیح کا بالکل استثنائی ہے جس کی واسطے ہم نے آیات کلام الہی پیش کی ہیں۔ مزید برآں ہم یہ دکھلانا چاہتے ہیں کہ کثرت فی الوحدت عبد عقیق میں موجود ہے اگر وہ موجود نہ ہوتی تو یہودی صادق ٹھہر سکتے تھے اور چونکہ یہ امر وہاں موجود ہے توان کو کچھ عذر نہ ہونا چاہئے۔ پس میں بطور مثال دو نظیر میں (۳۵) پیش کرتا ہوں۔ اول یہ کہ پیدائش باب ۲۶ میں لکھا ہے ویـومـر الـوهـيـم نـعـشا آدام سلمنو قد ميتونو یعنی کہا الوہیم خدا نے ہم بناؤ میں آدم کو اوپر صورتوں اپنیوں کے اور او پر شکلوں اپنیوں کے۔ دوم پیدائش ہم میں ہے یہوا الوہیم نے کہا دیکھو انسان نیک و بد کی پہچان میں ہم میں سے ایک کی