جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 90 of 502

جنگ مقدّس — Page 90

روحانی خزائن جلد ۶ ۸۸ جنگ مقدس تعلیم کی نسبت آپ بیان فرماتا ہے اور پھر آگے چل کر اس کا ثبوت بھی آپ ہی دے گا ۔ لیکن چونکہ اب وقت تھوڑا ہے اس لئے وہ ثبوت جواب الجواب میں لکھا یا جاوے گا ۔ بالفعل ڈپٹی عبد اللہ آتھم صاحب کی خدمت میں یہ التماس ہے کہ بپا بندی ان امور کے جو ہم پہلے لکھ چکے ہیں۔ انجیل شریف کا دعوی بھی اسی طرز اور اسی شان کا پیش کریں کیونکہ ہر ایک منصف جانتا ہے کہ ایسا تو ہر گز ہو نہیں سکتا کہ مدعی سست اور گواہ چست ۔ خاص کر اللہ جل شانه جو قومی اور قادر اور نہایت درجہ کے علوم وسیع رکھتا ہے جس کتاب کو ہم اس کی طرف منسوب کریں وہ کتاب اپنی ذات کی آپ قیوم چاہیے۔ انسانی کمزوریوں سے بالکل مبرا اور منزہ چاہیے۔ کیونکہ اگر وہ کسی دوسرے کے سہارا کی اپنے دعوئی میں اور اثبات دعوی میں محتاج ہے تو وہ خدا کا کلام ہرگز نہیں ہو سکتا۔ اور یہ مکر ریا درہے کہ اس وقت صرف مدعا یہ ہے کہ جب قرآن کریم نے اپنی ، اپنی تعلیم کی جامہ ا جامعیت اور کاملیت کا دعویٰ کیا ہے۔ یہی دعوئی انجیل کا وہ حصہ بھی کرتا ہو جو حضرت مسیح علیہ السلام کی طرف منسوب کیا جاتا ہے اور کم سے کم اس قدر تو ہو کہ حضرت مسیح اپنی تعلیم کو مختتم قرار دیتے ہوں اور کسی آئندہ وقت پر انتظار میں نہ چھوڑتے ہوں۔ نوٹ یہ سوال اس قدر لکھا گیا تھا تو اس کے بعد فریق ثانی نے اس بات پر اصرار کیا کہ سوال نمبر ۲ بحث کے کسی دوسرے موقعہ میں پیش ہو۔ بالفعل الوہیت مسیح کے بارے میں سوال ہونا چاہیے چنانچہ ان کے اصرار کی وجہ سے یہ سوال جو ابھی غیر مختتم ہے اسی جگہ چھوڑا گیا بعد میں بقیہ اس کا شائع کیا جائے گا۔