جنگ مقدّس — Page 89
روحانی خزائن جلد ۶۔ AL جنگ مقدس جو ہر ایک امر میں سچا فیصلہ دیتا ہے اور انتہائی درجہ کی حکمت ہے فَلَا أُقْسِمُ بِمَوقِعِ النُّجُومِ ۔ وَإِنَّهُ لَقَسَمُ لَوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمُ ( سیپاره ۲۷ رکوع (١٢) إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمُ فِي كِتَبٍ مَّكْنُونِ ۔ لَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ کا یعنی میں قسم کھاتا ہوں مطالع اور مناظر نجوم کی اور یہ قسم ایک بڑی قسم ہے۔ اگر تمہیں حقیقت پر اطلاع ہو کہ یہ قرآن ایک بزرگ اور عظیم الشان کتاب ہے اور اس کو وہی لوگ چھوتے ہیں جو پاک باطن ہیں۔ اور اس قسم کی مناسبت اس مقام میں یہ ہے کہ قرآن کی یہ تعریف کی گئی ہے کہ وہ کریم ہے یعنی روحانی بزرگیوں پر مشتمل ہے اور باعث نہایت بلند اور رفیع دقائق حقائق کے بعض کوتاہ بینوں کی نظروں میں اسی وجہ سے چھوٹا معلوم ہوتا ہے جس وجہ سے ستارے چھوٹے اور نقطوں سے معلوم ہوتے ہیں اور یہ بات نہیں کہ در حقیقت وہ نقطوں کی مانند ہیں بلکہ چونکہ مقام ان کا نہایت اعلیٰ وارفع ہے اس لئے جو نظریں قاصر ہیں ان کی اصل ضخامت کو معلوم نہیں کر سکتیں۔ إِنَّا أَنْزَلْنَهُ فِي لَيْلَةٍ مبرَكَةٍ إِنَّا كُنَّا مُنْذِرِينَ فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيم " (سیپارہ ۲۵ (۱۴) ہم نے قرآن کو ایک ایسی بابرکت رات میں اتارا ہے جس میں ہر ایک امر پر حکمت تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ اس سے مطلب یہ ہے کہ جیسے ایک رات بڑی ظلمت کے ساتھ نمودار ہوئی تھی اسی کے مقابل پر اس کتاب میں انوار عظیمہ رکھے گئے ہیں جو ہر ایک قسم کے شک اور شبہ کی ظلمت کو ہٹاتے ہیں اور ہر ایک بات کا فیصلہ کرتے ہیں اور ہر ایک قسم کی حکمت کی تعلیم کرتے ہیں اللهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُم من الظلمتِ إِلَى التَّورِ " ( سیپاره ۳ رکوع ۲) اللہ دوستدار ہے ان لوگوں کا جو ایمان لائے اور ان کو اندھیرے سے روشنی کی طرف نکالتا ہے۔ وَإِنَّهُ لَتَذْكِرَةٌ لِلْمُتَّقِينَ (۵/۲۹) إِنَّ هَذَا لَهُوَحَقُّ الْيَقِينِ : ( سیپاره ۲۷ رکوع ۱۶) وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِيْنِ - (۶/۳۰) یعنی قرآن متقیوں کو وہ سارے امور یاد دلاتا ہے جو ان کی فطرت میں مخفی اور مستور تھے اور یہ حق محض ہے جو انسان کو یقین تک پہنچاتا ہے اور یہ غیب کے عطا کرنے میں بخیل نہیں ہے یعنی بخیلوں کی طرح اس کا یہ کام نہیں کہ صرف آپ ہی غیب بیان کرے اور دوسرے کو غیبی قوت نہ دے سکے بلکہ آپ بھی غیب پر مشتمل ہے اور پیروی کرنے والے پر بھی فیضان غیب کرتا ہے۔ یہ قرآن کا دعوی ہے جس کو وہ اپنی لى الواقعة : ۷۶ ۷۷ الواقعة: ۷۸ تا ۳۸۰ الدخان : ۴، ۵ ۴ البقرة : ۲۵۸ ۵ الحاقة : ۴۹ ۶ الواقعة : ۹۶ ك التكوير: ۲۵