ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 645 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 645

۔میری راہ چھوڑ کر جو راہ بھی وہ پسند کریں وہ کچھ نہیں وہ شخص بدقسمت ہے جو ہیچ کو ّعزت دیتا ہے۔ہم تو ہر گھڑی دوست کے وصل کا جام پیتے ہیں اور میں ہر دم اپنے منکر کے برعکس اپنے یار کا ہم صحبت ہوں۔جنت کی ہوائیں میرے پُر سوز دل پر چلتی ہیں اور میری اس انگیٹھی کا دھواں سینکڑوں قسم کی اعلیٰ خوشبوئیں پیدا کرتا ہے۔حاسدوں کی بدبو مجھے نقصان نہیں پہنچا سکتی۔کیونکہ میں ہر وقت یاد خدا کے نافہ سے ّ معطر رہتا ہوں۔یار کے قرب کی وجہ سے میرا معاملہ اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ میں غیروں کی عقل وفہم سے بہت بالاتر ہو گیا ہوں۔میرا قدم یار کی مہربانی سے جنت میں داخل ہو گیا ہے اور اس دوست کی عنایت سے میرے ہاتھ میں جام وصل ہے۔اُس کی قبولیت کا جوش جو میری دعا کے وقت ظاہر ہوتا ہے۔اتنی گریہ وزاری میری ماں نے بھی نہیں سنی۔میں ہر طرف اور ہر جانب اُس یار کا چہرہ دیکھتا ہوں۔پھر اور کون ہے جو میرے خیال میں آئے صفحہ ۱۸۴۔افسوس عزیزوں نے مجھے نہ پہچانا۔یہ مجھے اُس وقت جانیں گے جب میں اس دنیا سے گزر جاؤں گا۔اگر ان کے درد وغم کی وجہ سے میرا دل خون ہو گیا ہے توکیا ہوا۔میری تو خواہش یہ ہے کہ اسی دھن میں میرا سر بھی قربان ہو جائے۔ہر رات قوم کے درد سے مجھ پر ہزاروں غم وارد ہوتے ہیں اے رب مجھے اس شور وشر کے زمانہ سے نجات دے۔اے رب میرے آنکھ کے پانی سے ان کی یہ سستی دھو ڈال کہ اس غم کے مارے آج میرا بستر تک تر ہو گیا۔میری داد کو پہنچ کیونکہ میں نے تیرے لئے آنسو بہائے ہیں میری فریاد سن کیونکہ تیرے سوا میرا کوئی نہیں رہا۔غموں کی تاریکی ختم ہونے میں نہیں آتی۔یہ اندھیری رات تو شاید حشر تک لمبی چلی جائے گی۔اُس ناقدر دان قوم کے غم سے میرا دل خون ہو گیا۔نیز گمراہ عالموں کی وجہ سے جو میرے پیچھے پڑ گئے ہیں۔اگر خشک علم اور دل کی نابینائی حائل نہ ہوتی تو ہر عالم اور فقیہ میرے آگے غلاموں کی طرح ہوتا۔میری یہ باتیں پتھر تک پر اثر کرتی ہیں مگر یہ لوگ میرے پُر تاثیر کلام سے بے نصیب ہیں۔علم تو وہ ہے کہ فراست کا نور اس کے ساتھ ساتھ چلتا ہے اس تاریک علم کو تو میں ایک کوڑی کو بھی نہیں خریدتا