ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 646
۔آج کے دن میری قوم میرا درجہ نہیں پہنچانتی لیکن ایک دن آئے گا کہ وہ رو رو کر میرے مبارک وقت کو یاد کرے گی۔اے میری قوم صبر کے ساتھ غیب کی طرف نظر رکھ تا کہ میں اپنے ہاتھ (خدا کی درگاہ میں ) تیری خاطر عاجزی کے ساتھ پھیلاؤں صفحہ ۱۸۵۔اگر تیرے نزدیک میری قدر خاک کے برابر بھی ہو تو کیا مضائقہ ہے خاک تو کیا میں کوڑے کرکٹ سے بھی زیادہ حقیر ہوں۔یہ اُس کا فضل اور ُلطف ہے کہ وہ قدردانی کرتا ہے ورنہ میں تو ایک کیڑا ہوں نہ کہ آدمی سیپی ہوں نہ کہ موتی۔اس کے ہاتھ نے اس طرح میرے دل کو غیر کی طرف سے کھینچ لیا گویا اس کے سوا اور کوئی بھی میرے خواب وخیال میں نہ تھا۔خدا کے بعد میں محمدؐ کے عشق میں سرشار ہوں۔اگر یہی کفر ہے تو بخدا میں سخت کافر ہوں۔میرے ہر رگ وریشہ میں اُس کا عشق نغمہ سراہے میں اپنی خواہشات سے خالی اور اس معشوق کے غم سے ُپر ہوں۔میں درگاہِ قدس میں صداقت کا چراغ ہوں۔اُسی کا ہاتھ ہر تیز ہوا سے میری حفاظت کرنے والا ہے۔آسمان ہر وقت میری سچائی کی گواہی دیتا ہے پھر مجھے اس بات کا کیا غم کہ اہل زمین مجھے نہیں مانتے۔بخدا میں اپنے پروردگار کی طرف سے نوح کی کشتی کی مانند ہوں بدقسمت ہے وہ جو میرے لنگر سے دور رہتا ہے۔یہ آگ جس نے اس آخری زمانہ کا دامن جلا دیا ہے۔خدا کی قسم میں اس کے علاج کے لئے نہر کوثر ہوں۔میں رسول نہیں ہوں اور کتاب نہیں لایا ہوں۔ہاں ملہم ہوں اور خدا کی طرف سے ڈرانے والا۔اے میرے رب میرے گریہ وزاری کو دیکھ کر ُلطف وکرم کی ایک نظر کر کہ تیری رحمت کے ہاتھ کے سوا اور کون میرا مددگار ہے۔میری جان مصطفی کے دین کی راہ میں فدا ہو۔یہی میرے دل کا مدعا ہے کاش میسر آجائے صفحہ ۲۳۲۔ہمارے درمیان محبت کی کشش اس حد تک ہے کہ رقیب آیا لیکن وہ (الگ الگ) میری اور تمہاری کوئی نشانی