ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 630
روحانی خزائن جلد ۳ ۶۳۰ ازالہ اوہام حصہ دوم مرزا جی نے اپنے رسائل میں بیان فرمائی ہے۔ اس ترجمہ اور حقیقت پر اگر کسی کو طالب علمانہ بحث ہو تو اُسے یاد رہے کہ واؤ کا حرف تفسیر کے واسطے بھی ہوا کرتا ہے۔ دیکھو کلمات طیبات قرآنی جو ذیل میں درج ہیں ۔ تِلْكَ ایت الكتب وَقُرْآنٍ مُّبِينٍ - سورة محجر تلكَ أَيْتُ الْكِتَبِ وَالَّذِى أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ سوره رعد عزیز من! بیرونی تحریکات کے سوا اندرونی تحریکوں کا ہونا ایک نادر امر ہے یہ معاملہ جس پر یہ ضعیف اور خاکسار خط لکھ رہا ہے اب پبلک میں آ گیا ہے شخصی خطوط میں اس کا تذکرہ اب چنداں ضروری نہیں ۔ جناب مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا کہ اب مرزا جی کے معاملہ میں مجھ سے خط و کتابت نہ فرمادیں گے مگر جب خلاف وعدہ مولوی جی نے خاکسار کو لکھا تو خاکسار نے اُن کو یہی جواب دیا کہ اب یہ معاملہ شخصی اور پرائیویٹ خطوط کے قابل نہیں رہا۔ سو تم بھی عام فیصلہ کا انتظار کرو۔ تم کو معلوم ہے کہ اس وقت تین آدمیوں کو پنجاب میں مرزا جی کی مخالفت پر بڑا جوش ہے۔ ادھر قرآن مجید راستبازوں کی فتح مندی پر تاکید سے خبر دے رہا ہے۔ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ کے پس صبر و متانت و سلامت روی سے چند روز کام لو ۔ عزیز من ! یاد رکھو مجھ بیچ میر کو آگاہ کیا گیا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا قصہ بدوں کسی قسم کی تاویل اور کسی قسم کے استعارہ و مجاز کے کسی قوم نے تسلیم نہیں فرمایا۔ یہ میری بات سرسری نہ سمجھو۔ نمونہ کے طور پر دیکھ لو۔ ہمارے اکثر مفسرین حضرت مسیح کے قصہ میں اِنِّي مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِع کے میں کیا کچھ اُلٹ پھیر نہیں کرتے ۔ میاں عبدالحق صاحب غزنوی اپنے دوسرے اشتہار میں پہلے ہی صفحہ کے آخری سطر میں لکھتے ہیں۔ اللہ اکبر خربت خیبر " اب غور کا مقام ہے کہ میاں عبد الحق کا خیر حقیقی خیبر تو ہرگز نہیں ہو سکتا اب قادیان کو دمشق ماننے میں وہ کیوں گھبراتے اور اس پر شور وغل مچاتے ہیں !!! مولوی عبد الرحمن لکھو کے والے عزیز القدر عبد الواحد حفظہ اللہ کو ارقام فرماتے ہیں الحجر : ٢ الرعد: ٢ الاعراف : ١٢٩ ال عمران : ۵۶