ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 626
روحانی خزائن جلد ۳ ۶۲۶ ازالہ اوہام حصہ دوم اشتهار نورالابصارصداقت آثار عیسائی صاحبوں کی ہدایت کے لئے يا ايها المتنصرون ما كان عيسى الا عبد من عباد الله قد مات ودخل في الموتى فلا تحسبوه حيًّا بل هو ت ولا تعبدوا ميتا وانتم تعلمون - اے حضرات عیسائی صاحبان؛ آپ لوگ اگر غور سے اس کتاب ازالہ اوہام کو پڑھیں گے تو آپ پر نہایت واضح دلائل کے ساتھ کھل جائے گا کہ در حقیقت حضرت عیسی علیہ السلام اب زندہ موجود نہیں ہیں بلکہ وہ فوت ہو چکے اور اپنے فوت شدہ بزرگوں میں جاملے۔ ہاں وہ روحانی زندگی جو ابراہیم کو لی ، اسحاق کو لی ۔ یعقوب کو ملی۔ اسمعیل کو لی اور بلحاظ رفع سب سے بڑھ کر ہمارے سید و مولی محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی۔ وہی زندگی بلا تفاوت حضرت عیسی کو بھی ملی۔ اس بات (۱۲۷) پر بائیل سے کوئی دلیل نہیں ملتی کہ مسیح ابن مریم کو کوئی انوکھی زندگی ملی۔ بلکہ اس زندگی کے لوازم میں تمام انبیاء تشریک مساوی ہیں۔ ہاں با عتبار رفع کے اقرب الی اللہ مقام ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔ سوائے حضرات عیسائی صاحبان ! آپ لوگ اب ناحق کی ضد نہ کریں۔ میسج ایک عاجز بندہ تھا جو فوت ہو گیا اور فوت شدہ لوگوں میں جا ملا۔ آپ لوگوں کے لئے یہی بہتر ہے کہ خدا تعالیٰ سے ڈریں اور ایک عاجز مخلوق کو خدا کہ کر اپنی عاقبت خراب نہ کریں آپ لوگ ذرہ سوچیں کہ مسیح اس دوسرے عالم میں اوروں سے کس بات میں زیادہ ہے۔ کیا انجیل اس بات کی گواہی نہیں دیتی کہ ابراہیم زندہ ہے؟ بلکہ لعاذر بھی ؟ پھر مسیح لعاذر سے اپنی زندگی میں کس بات میں زیادہ ہے۔ اگر آپ لوگ تحقیق سے نوشتوں کو دیکھیں تو آپ کو اقرار کرنا پڑے گا کہ کسی بات میں زیادہ نہیں۔ اگر آپ لوگ اس بارہ میں میرے ساتھ بحث کرنا چاہیں تو مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں اس بحث میں مغلوب ہونے کی حالت میں حتی الوسع اپنے ہر ایک تاوان کو جو آپ لوگ تجویز کریں دینے کو طیار ہوں بلکہ اپنی جان بھی اس راہ میں فدا کرنے کو حاضر ہوں۔ خدا وند کریم نے میرے پر ۹۴۸ کھول دیا ہے کہ در حقیقت عیسی بن مریم فوت ہو گیا اور اب فوت شدہ نبیوں کی جماعت میں داخل ہے۔ سو آؤ دین اسلام اختیار کرو ۔ وہ دین اختیار کر جس میں حتی لا یموت کی پرستش ہو رہی ہے نہ کسی مردہ کی ۔ جس پر کامل طور پر چلنے سے ہر یک محب صادق خود مسیح ابن مریم بن سکتا ہے۔ والسلام علی من اتبع الهدى المشتہر غلام احمد قادیانی ۳/ستمبر ۱۸۹۱ء الحمد والمنة که رسالہ ازالہ اوہام از تصنیفات مجدد دوراں مرسل بیز دان مسیح الزمان جناب حضرت مرزاغلام احمد صاحب رئیس قادیان سلمه المنان در مطبع ریاض ہندا امرتسر ا ہتمام شیخ نور احمد صاحب زیور طبع پوشید بقلم ذلیل ترین کافه انام غلام محمد امرتسری غفر الله ذنوبه و ستر عيوبه