ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 622
ج روحانی خزائن جلد ۳ ۶۲۲ ازالہ اوہام حصہ دوم بقیه حاشیه کسی حیوان یا انسان یا پرند کو ایسی حالت میں بھی کہ وہ ٹکڑے ٹکڑے کیا جائے حقیقی موت سے بچاوے اور اس کی روح کا اس کے پاش پاش شدہ جسم سے وہی تعلق قائم رکھے جو نیند کی حالت میں ہوتا ہے اور پھر اس کے جسم کو درست کر دیوے اور اس کو نیند کی حالت سے جگا دیوے۔ کیونکہ وہ ہر یک بات پر قادر ہے۔ اپنی صفات قدیمہ اور اپنے عہد اور وعدہ کے برخلاف کوئی بات الالالالا نہیں کرتا اور سب کچھ کرتا ہے۔ فتدبر في هذا المقام و لا تكن من الغافلين منه انه قد سبق منى انهم لا يرجعون رواه الترمذی یعنی جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلعم مجھ کو ملے اور فرمایا کہ اے جابر کیا سبب ہے کہ میں تجھ کو غمناک دیکھتا ہوں۔ میں نے کہا کہ یارسول اللہ صلعم میرا باپ شہید ہو گیا اور میرے سر پر عیال اور قرض کا بوجھ چھوڑ گیا۔ آپ نے فرمایا کہ کیا میں تجھے اس بات کی خوشخبری دوں جس طور سے اللہ جلشانہ تیرے باپ کو ملا۔ میں نے عرض کیا کہ ہاں یا رسول اللہ تو آپ نے فرمایا کہ اللہ جلشانہ کسی کے ساتھ بغیر حجاب کے کلام نہیں کرتا مگر تیرے باپ کو اُس نے زندہ کیا اور با لمواجہ کلام کی اور کوئی درمیان حجاب نہ تھا۔ اور پھر اس نے تیرے باپ کو کہا کہ اے میرے بندے کچھ مجھ سے مانگ کہ میں تجھے دوں گا۔ تب تیرے باپ نے عرض کی کہ اے میرے رب مجھ کو زندہ کر کے پھر دنیا میں بھیج تا تیری راہ میں دوبارہ شہید کیا جاؤں ۔ تب اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا کہ ایسا نہیں ہوگا کیونکہ میں ( قرآن کریم میں ) عہد کر چکا ہوں کہ جو لوگ فوت ہو جائیں پھر وہ دنیا میں بھیجے نہیں جائیں گے ( المن لا يَرْجِعُونَ - قرآن کریم کی آیت ہے ) یہ وہ حدیث ہے جو تر ندی میں لکھی ہے اور اسی کے ہم مضمون ایک صحیح بخاری میں حدیث ہے مگر خوف طول سے چھوڑ دی گئی۔ اب ان تمام آیات واحادیث سے ظاہر ہے کہ جس پر حقیقی موت وارد ہو جائے وہ ہرگز دوبارہ دنیا میں بھیجا نہیں جاتا۔ اگر چہ خدائے تعالیٰ ہر یک چیز پر قادر ہے مگر ایسا ہونا خدائے تعالیٰ کے وعدہ کے برخلاف ہے۔ اسی جگہ سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ تمام مقامات قرآن کریم جن میں مردوں کے زندہ کرنے کا ذکر ہے ان سے حقیقی موت مراد نہیں ہے۔ یہ بات بالکل ممکن اور صحیح ہے کہ ایک حالت انسان پر بالکل موت کی طرح وارد ہو جائے مگر وہ حقیقی موت نہ ہو اور اگر ذرہ غور کر کے دیکھیں تو صاف ظاہر ہوگا کہ مسیح ابن مریم کی نسبت یہ عذر الانبياء : ۹۶