ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 616 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 616

روحانی خزائن جلد ۳ ۶۱۶ ازالہ اوہام حصہ دوم (۹۳۷) بقیه حاشیہ میں مثل قرآن ممتنع ہے تو کیوں کر وہ لوگ احادیث کو صحت اور محفوظیت میں مثل قرآن بنا سکتے ۔ بعض نے احادیث معراج کا جو صحیح بخاری میں ہیں تعارض دور کرنے کے لئے یہ جواب دیا ہے کہ حقیقت میں وہ صرف ایک ہی معراج نہیں بلکہ پانچ معراج ہوئے تھے۔ کوئی بیداری میں اور کوئی خواب میں اور کوئی بعد از زمانہ وحی اور کوئی قبل از زمانہ وحی ۔ اور کوئی بیت اللہ میں اور کوئی اپنے گھر کے حجرہ میں ۔ اسی وجہ سے انبیاء کی رویت میں بھی اختلاف پڑا۔ کبھی کسی کو کسی آسمان میں دیکھا اور کبھی کسی آسمان میں ۔ لیکن واضح ہو کہ تعارض دور کرنے کیلئے یہ جواب صحیح نہیں ہے کیونکہ اگر پانچ معراج ہی تسلیم کئے جائیں تو پھر بھی وہ اختلاف جو انبیاء کی رویت کی نسبت پایا جاتا ہے کسی طرح دور نہیں ہوسکتا کیونکہ خود انہیں احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ انبیاء کیلئے خاص خاص مقامات آسمانوں میں مقرر ہو گئے ہیں ۔اسی وجہ سے وہ حدیث معراج جو امام بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب التوحید میں لکھی ہے جو بخاری مطبوعہ کے صفحہ ۱۱۲۰ میں موجود ہے بآواز بلند پکار رہی ہے کہ ہر یک نبی آسمانوں پر اپنے ۹۳۸ اپنے مقام پر قرار یاب ہے جس سے بڑھ نہیں سکتا کیونکہ اس حدیث میں یہ فقرہ بھی درج ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے موسیٰ کو ساتویں آسمان میں دیکھا اور جب ساتویں آسمان سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آگے جانے لگے تو موسیٰ نے کہا اے میرے رب مجھے یہ گمان نہ تھا کہ مجھے سے بھی زیادہ کسی کا رفع ہوگا۔ اب ظاہر ہے کہ اگر موسیٰ کے اختیار میں تھا کہ بھی پانچویں آسمان پر آجائے اور کبھی چھٹے پر اور کبھی ساتویں پر تو یہ گریہ و بکا کیسا تھا جیسے پانچویں سے یا چھٹے سے ساتویں پر چلے گئے ایسا ہی آگے بھی جاسکتے تھے اور قرآن کریم سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی شخص عروج میں اپنے نفسی نقطہ سے آگے گزر نہیں سکتا۔ ماسوا اس کے پانچ معراجوں کے ماننے سے ایک اور مصیبت یہ پیش آتی ہے کہ قرآن کریم اور خدائے تعالی کے احکام میں محض بے جا اور اغو طور پر منسوخیت ماننی پڑتی ہے اور اوامر نا قابل تبدیل اور مستمرہ کو فضول طور پر منسوخ ماننا پڑتا ہے۔ اور حکیم مطلق کو ایک لغو اور بے ضرورت تنسیخ کا مرتکب قرار دے کر پھر پشیمانی کے طور پر