ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 617 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 617

روحانی خزائن جلد ۳ ۶۱۷ ازالہ اوہام حصہ دوم بقیہ حاشیہ پہلے ہی حکم کی طرف عود کرنے والا اعتقاد کرنا پڑتا ہے کیونکہ اگر قصہ معراج پانچ مرتبہ واقع ہوا ہے تو پھر اس صورت میں یہ اعتقاد ہونا چاہیے کہ پانچ ہی دفعہ اول نمازیں پچاس مقرر کی گئیں اور پھر پانچ منظور کی گئیں۔ مثلاً پہلی دفعہ کے معراج کے وقت میں پچاس نمازیں فرض کی گئیں اور ان پچانش میں تخفیف کرانے کے لئے جیسا کہ بخاری کی یہ پنچ حدیثیں ہی ظاہر کر رہی ہیں کئی مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے موسیٰ اور اپنے رب میں آمد و رفت کی یہاں تک کہ پچانش نماز سے تخفیف کرا کر پانچ نمازیں منظور کرا ئیں اور خدائے تعالیٰ نے کہہ دیا کہ اب ہمیشہ کے لئے غیر مبدل یہ حکم ہے کہ نمازیں پانچ مقرر ہوئیں اور قرآن بھی پانچ کے لئے نازل ہو گیا۔ اور حسب آیات محکمہ قرآن کریم کے پانچ نمازوں پر عملدرآمد شروع ہو گیا۔ اور سب قصہ لوگوں کو بھی سنادیا گیا کہ اب ہمیشہ کے لئے پانچ نمازیں مقرر ہو گئیں۔ لیکن کچھ عرصہ کے بعد جو دوسرا معراج ہوا تو تمام پہلا ساخته پرداخته اس میں کا لعدم کیا گیا اور وہی پرانا جھگڑا از سر نو پیش آگیا کہ خدا تعالیٰ نے پھر نمازیں پچاس مقرر کر دیں اور قرآن میں جو حکم وارد ہو چکا تھا اس کا بھی کچھ لحاظ نہ رکھا اور منسوخ کر دیا ۔ مگر پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی دفعہ کی طرح تخفیف کرانے کی غرض سے کئی دفعہ اپنے رب میں اور موسیٰ میں آمد و رفت کر کے نمازیں پانچ مقرر کرا ئیں اور جناب الہی سے ہمیشہ کے لئے یہ منظوری ہوگئی کہ نمازیں پانچ پڑھا کریں۔ اور قرآن میں یہ حکم غیر مبدل قرار پا گیا۔لیکن پھر تیسری دفعہ کے معراج میں وہی مصیبت پیش آگئی اور نمازیں پچاس مقرر کی گئیں اور قرآن کریم کی غیر متبدل آیتیں منسوخ (۱۴۰) کی گئیں ۔ پھر بمشکل تمام بدستور مذکورہ بالا پچاس سے پانچ کرائیں۔ مگر چوتھی دفعہ کے معراج میں پھر پچاس مقرر کی گئیں۔ پھر جیسا کہ بار بار لکھا گیا ہے نہایت التجا اور کئی دفعہ کی آمد ورفت سے پانچ مقرر کرا ئیں اور خدائے تعالیٰ نے پختہ عہد کر لیا کہ اب پانچ رہیں گی لیکن پھر پانچویں دفعہ کے معراج میں پھر پچاس مقرر کی گئیں۔ پھر بہت سی آمد ورفت کے بعد پانچ نمازیں