ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 615
روحانی خزائن جلد ۳ ۶۱۵ ازالہ اوہام حصہ دوم بقیه حاشیه ساتویں آسمان میں دیکھا۔ اور کسی میں لکھا ہے کہ موسیٰ کو ساتویں آسمان میں دیکھا اور ابراہیم کو چھٹے میں ۔ غرض اس قدر اختلاف ہیں کہ جن کے مفصل لکھنے کے لئے بہت سے اوراق چاہئیں۔ اب کیوں کر ممکن ہے کہ اگر ہر ایک راوی ان تمام الفاظ کو بہ صحت تمام یا درکھتا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلے تھے تو اس قدر اختلاف اور تعارض اُن کے بیانات میں پایا جاتا۔ بلاشبہ بعض راوی بوجه کمزوری حافظہ بعض الفاظ کو بھول گئے یا محل بے محل کا فرق یاد نہ رہا۔ اسی وجہ سے یہ صریح اختلافات پیدا ہو گئے ۔ پس جبکہ احادیث کے ضبط الفاظ کا یہ نمونہ ہے جو اس کتاب سے ملتا ہے جو بعد کتاب اللہ اصح الکتب ہے تو اس صورت میں اگر کوئی حدیث صریح کتاب اللہ کے معارض ہو یا (۹۳۶ ایسی باتوں کو بیان کرے جو اشارات النص کے مخالف ہوں تو کیوں کر ایسی حدیث کے وہ معنی مسلم رکھے جائیں جو قرآن کریم سے صریح تعارض رکھتے ہیں۔ جب کسی تعارض کے وقت حدیث کا بیان بمقابلہ بیان قرآن کریم کے چھوڑ نا نفس پر شاق معلوم ہوتو حدیثوں کے باہمی تعارض پر نظر ڈال کر خود انصاف کر لینا چاہیے کہ علاوہ اس کمال خاص قرآن کے کہ وہ وحی متلو ہے محفوظیت کی رو سے بھی حدیثوں کو قرآن کریم سے کیا نسبت ہے۔ قرآن کریم کی جیسا کہ اس کی بلاغت و فصاحت وحقاق و معارف کی رو سے کوئی چیز مثل نہیں ٹھہر سکتی۔ ایسا ہی اس کی صحت کاملہ اور محفوظیت اور لاریب فیہ ہونے میں کوئی چیز اس کی مثیل نہیں۔ کیونکہ اس کے الفاظ و ترتیب الفاظ اور محفوظیت تامہ کا اہتمام خدائے تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے لیا ہے۔ اور ماسوا اس کے حدیث ہو یا قول کسی صحابی کا ہو ان سب کا اہتمام انسانوں نے کیا ہے جو سہو اور نسیان سے بری نہیں رہ سکتے ۔ اور ہرگز وہ لوگ محفوظیت تامہ اور صحت کاملہ میں احادیث اور اقوال کو مثل قرآن نہیں بنا سکتے تھے۔ اور یہ بجز اُن کا اس آیت کریمہ کے اعجازات پیش کردہ میں داخل ہے۔ قُل نَّبِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنْسُ وَالْجِنُّ عَلَى أن يَأْتُوا بِمِثْلِ هذا القرآن لا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَو كان بعضهم لبعض ظهير الحجب ہر ایک بات ا بنی اسرائیل: ۸۹