ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 614
روحانی خزائن جلد ۳ ۶۱۴ ازالہ اوہام حصہ دوم (۱۳۳) بقیه حاشیه موسیٰ کو اور ساتویں پر ابرہیم کو دیکھا۔ پھر بخاری کی کتاب التوحيد والرد على الجهميه میں صفحہ ۱۱۲۰ میں لکھا ہے کہ مسجد کعبہ میں تین شخص پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ہنوز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منصب نبوت پر مامور نہیں ہوئے تھے یعنی وحی نازل ہونے اور مبعوث ہونے سے پہلے کا زمانہ تھا اور آنحضرت صلحم مسجد حرام میں سوئے ہوئے تھے جو معراج ہوا ۔ لیکن اسی حدیث میں لکھا ہے کہ آنحضرت مبعوث ہو چکے تھے جب یہ معراج ہوا۔ پھر بغیر براق کے آسمان پر گئے اور ادرلیس کو دوسرے آسمان میں دیکھا اور ہارون کو چوتھے میں اور ابراہیم کو چھٹے آسمان میں ۔ اور موسیٰ کو ساتویں میں ۔ اور جب موسیٰ سے آگے ہو گزرے اور ساتویں آسمان سے عبور کرنے لگے تو موسیٰ نے کہا اے میرے رب مجھے یہ گمان نہیں تھا کہ مجھ سے بھی زیادہ کسی کا رفع ہوگا۔ عربی عبارت یہ ہے فقال موسى ربِّ لم اظن ان يرفع عَلَى أحد ( یہ وہی رفع ہے جس کی طرف آیت و رافعک التی میں اشارہ ہے ) پھر اس حدیث کے آخر میں لکھا ہے کہ اس قد ر وا قعہ دیکھ کر پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ کھل گئی اور جاگ اُٹھے ۔ اور ان پانچوں حدیثوں میں بالالتزام لکھا ہے کہ معراج کے وقت پہلے پچاس نمازیں مقرر ہوئیں اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پچاس سے تخفیف کرا کر پانچ منظور کرا ئیں ۔ ۹۳۵ اب دیکھنا چاہیے کہ ان پانچ حدیثوں میں کس قدر اختلاف ہے ۔ کسی حدیث میں براق کا ذکر ہے اور کسی میں یہ ہے کہ جبرائیل ہاتھ پکڑ کر لے گیا اور کسی میں بیداری اور کسی میں خواب لکھی ہے اور کسی میں لکھا ہے کہ میں حجرہ میں لیٹا ہوا تھا اور کسی میں لکھا ہے کہ میں مسجد کعبہ میں تھا۔ اور کسی میں لکھا ہے کہ صرف جبرائیل آیا تھا اور کسی میں لکھا ہے کہ تین آدمی آئے تھے ۔ اور کسی میں لکھا ہے کہ آدم کے بعد عیسی اور بیٹی کو دیکھا اور کسی میں لکھا ہے کہ آدم کے بعد اور لیں کو دیکھا اور کسی میں لکھا ہے کہ عیسی کو دوسرے آسمان میں دیکھا اور موسیٰ کو چھٹے آسمان میں ۔ اور کسی میں لکھا ہے کہ پہلے موسیٰ کو دیکھا پھر عیسی کو ۔ اور کسی میں یہ لکھا ہے کہ ابراہیم کو