ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 612
روحانی خزائن جلد ۳ ۶۱۲ ازالہ اوہام حصہ دوم بقیه حاشیه که اگر در حقیقت کوئی حدیث قرآن کریم سے معارض و مخالف ہے تو حدیث قابل تاویل ۹۳۱ ہے نہ کہ قرآن۔ کیونکہ قرآن کریم کے الفاظ جواہرات مرصع کی طرح اپنے اپنے محل پر چسپاں ہیں اور نیز قرآن کریم کا ہر یک لفظ اور ہر یک نقطہ تصرف اور دخل انسان سے محفوظ ہے برخلاف حدیثوں کے کہ وہ محفوظ الالفاظ بکلی نہیں اور ان کے الفاظ کی یادداشت اور حل پر رکھنے میں وہ اہتمام نہیں ہوا جو قرآن کریم میں ہوا۔ اسی وجہ سے ان میں تعارض بھی موجود ہے جن سے ثابت ہوتا ہے کہ مقامات متعارضہ میں راویوں کے حافظہ نے وفا نہیں کی۔ اس جگہ ہم چند مقامات متعارضہ صحیح بخاری کے جو بعد کتاب اللہ اصح الکتب خیال کی گئی ہے اور در حقیقت اصح ہے لکھتے ہیں۔ از انجملہ وہی حدیث صفحہ ۶۵۲ بخاری ہے جس میں یہ لکھا ہے کہ میں شیطان سے محفوظ صرف ابن مریم اور اس کی والدہ ہے لیکن حدیث صفحہ ۷۷۶ بخاری میں اس کے برخلاف درج ہے جس میں لکھا ہے کہ جو شخص صحبت کے وقت بسم الله اللهم الخ پڑھے اس کی اولا د مس شیطان سے محفوظ رہتی ہے۔ ایسا ہی بخاری کے صفحہ ۴۶۴ اور صفحہ ۲۶ کی حدیثیں بھی اس کے معارض پڑی ہیں۔ اور ایسا ہی بخاری کی وہ حدیث بھی جو صفحہ ۴۷۷ میں درج ہے جس میں لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ مسجد حرام اور مسجد اقصیٰ کے (۱۳۲) ایام بناء میں کس قدر فاصلہ ہے تو آپ نے فرمایا کہ چالیس برس کا ۔ حالانکہ روایت صحیح سے ثابت ہے کہ بانی کعبہ ابراہیم علیہ السلام اور بانی بیت المقدس حضرت سلیمان ہے اور ان دونوں کے زمانہ میں ہزار برس سے بھی زیادہ فاصلہ ہے۔ اسی وجہ سے ابن جوزی نے بھی اس حدیث پر لکھا کہ فیه اشکال لان ابراهيم بنى الكعبة وسليمان بنى بيت المقدس وبينهما اكثر من الف سنة - دیکھو صفحہ ۷ ۴۷ بخاری ایسا ہی معراج کی حدیثوں میں سخت تعارض واقعہ ہے۔ کتاب الصلوۃ صفحہ ۵۰ بخاری میں جو حدیث ہے اس میں یہ الفاظ ہیں کہ میں مکہ میں تھا کہ چھت کو کھول کر حضرت جبرئیل میرے پاس آئے اور میرے سینہ کو کھولا اور آب زمزم سے اس کو دھویا ۔ پھر ایک سونے کا طشت