ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 609 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 609

روحانی خزائن جلد ۳ ۶۰۹ بقیه حاشيه الحاد اور صریح بے ایمانی میں داخل ہوگی۔ ازالہ اوہام حصہ دوم اگر یہ کہا جائے کہ ہم یہ تحریفات و تبدیلات بلا ضرورت نہیں کرتے بلکہ آیات قرآنی کو بعض احادیث سے مطابق و موافق کرنے کے لئے بوجہ اشد ضرورت اس حرکت بے جا کے مرتکب ہوتے ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو آیت اور حدیث میں باہم تعارض واقع ہونے کی حالت میں اصول مفسرین ومحدثین یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو حدیث کے معنوں میں تاویل کر کے اس کو قرآن کریم کے مطابق کیا جائے۔ جیسا کہ صحیح بخاری کی کتاب الجنائز صفحہ ۷۲ امیں صاف لکھا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ نے حدیث ان الـمـيـت يـعـذب ببعض بكاء اهلہ کو قرآن کریم کی اس ۹۲۷ آیت سے کہ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرى معارض و مخالف پا کر حدیث کی یہ تاویل کر دی کہ یہ مومنوں کے متعلق نہیں۔ بلکہ کفار کے متعلق ہے جو متعلقین کے جزع فزع پر راضی تھے بلکہ وصیت کر جاتے تھے پھر بخاری کے صفحہ ۱۸۳ میں یہ حدیث جو لکھی ہے قال هل وجدتم ما وعدكم ربكم حقا۔ اس حدیث کو حضرت عائشہ صدیقہ نے اس کے سیدھے اور حقیقی معنی کے رو سے قبول نہیں کیا اس عذر سے کہ یہ قرآن کے معارض ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے إنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتی " اور ابن عمر کی حدیث کو صرف اسی وجہ سے رد کر دیا ہے کہ ایسے معنے معارض قرآن ہیں۔ دیکھو بخاری صفحہ ۱۸۳۔ ایسا ہی محققوں نے بخاری کی اس حدیث کو جو صفحہ ۶۵۲ میں لکھی ہے یعنی یہ کہ مامن مولود يولد الا والشيطن يمسه حين يولد الا مريم | وابنها - قرآن کریم کی ان آیات سے مخالف پا کر کہ إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ المُخْلَصِينَ إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَنَّ وَسَلَمٌ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ اس حدیث کی یہ تاویل کر دی۔ کہ ابن مریم اور مریم سے تمام ایسے اشخاص مراد ہیں جو ان دونوں کی صفت پر ہوں جیسا کہ شارح بخاری نے اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے۔ قد طعن الزمخشري في معنى هذا الحديث و توقف في صحته و قال ان صح ل الانعام : ۱۶۵ النمل : ۸۱ الحجر : ام الحجر : ٤٣ ۵ مریم ۔ ۱۶: