ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 608 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 608

۶۰۸ ازالہ اوہام حصہ دوم روحانی خزائن جلد ۳ بقيه حاشیه بے طرح ہاتھ پیر مار رہے ہیں اور کلام الہی کی تحریف و تبدیل پر کمر باندھ لی ہے وہ ۹۲۵ نہایت تکلف سے خدائے تعالیٰ کی ان چار ترتیب وار فقروں میں سے دو فقروں کی ترتیب طبعی سے منکر ہو بیٹھے ہیں یعنی کہتے ہیں کہ اگر چہ فقرہ مطهرک من الذين كفروا اور فقره وجاعل الذين اتبعوک بترتیب طبعی واقع ہیں لیکن فقرہ انی متوفیک اور فقرہ و رافعک التی ترتیب طبیعی پر واقع نہیں ہیں بلکہ دراصل فقره انی متوفیک مؤخر اور فقره رافعک التی مقدم ہے۔ افسوس کہ ان لوگوں نے باوجود اس کے کہ کلام بلاغت نظام حضرت ذات احسن متکلمین جل شانہ کو اپنی اصل وضع اور صورت اور ترتیب سے بدلا کر مسخ کر دیا۔ اور چار فقروں میں سے دو فقروں کی ترتیب طبعی کو مسلم رکھا اور دو فقروں کو دائرہ بلاغت و فصاحت سے خارج سمجھ کر اپنی طرف سے اُن کی اصلاح کی یعنی مقدم کو مؤخر کیا اور مؤخر کو مقدم کیا مگر باوجود اس قدر یہودیانہ تحریف کے پھر بھی کامیاب نہ ہو سکے کیونکہ اگر فرض کیا جائے کہ فقرہ انہی رافعک الی فقره انی متوفیک پر مقدم سمجھنا چاہیے تو پھر بھی اس سے محر فین کا مطلب نہیں نکلتا کیونکہ اس صورت میں اس کے یہ معنی ہوں گے کہ اے عیسی میں تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور وفات دینے والا ہوں اور یہ معنے سرا سر غلط ہیں کیونکہ اس سے لازم آتا ہے کہ حضرت عیسی کی آسمان پر ہی وفات ہو وجہ یہ کہ جب رفع کے بعد وفات دینے کا ذکر ہے اور نزول کا درمیان کہیں ذکر نہیں ۔ اس (۹۲۹) سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ آسمان پر ہی حضرت عیسی وفات پائیں گے ۔ ہاں اگر ایک تیسرا فقرہ اپنی طرف سے گھڑا جائے اور ان دونوں فقروں کے بیچ میں رکھا جائے اور یوں کہا جائے یا عیسی انّی رافعک و مُنزلک و مُتوفیک تو پھر معنے درست ہو جائیں گے مگر ان تمام تحریفات کے بعد فقرات مذکورہ بالا خدائے تعالیٰ کا کلام نہیں رہیں گے بلکہ باعث دخل انسان اور صریح تغییر و تبدیل و تحریف کے اس محرف کا کلام متصور ہوں گے ۔ جس نے بے حیائی اور شوخی کی راہ سے ایسی تحریف کی ہے ۔ اور کچھ شبہ نہیں کہ ایسی کارروائی سراسر