ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 594
روحانی خزائن جلد ۳ ۵۹۴ ازالہ اوہام حصہ دوم گویا وہ اُس ارض مقدس کے نیچے ہے نہ دجال کے پاس۔ اور بیان کیا گیا ہے کہ اُسی میں سے اُس کا خروج ہوگا ۔ اس استعارہ سے یہ مطلب معلوم ہوتا ہے کہ دابتہ الارض در حقیقت اسم جسم ایسے علماء کے لئے ہے جو ذو جہتین واقع ہیں۔ ایک تعلق اُن کا دین اور حق سے ہے (۱۰۴) اور ایک تعلق اُن کا دنیا اور دجالیت سے۔ اور آخری زمانہ میں ایسے مولویوں اور ملاؤں کا پیدا ہونا کئی جگہ بخاری میں لکھا ہے۔ چنانچہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ لوگ حدیث خیر البریہ پڑھیں گے۔ اور قرآن کی بھی تلاوت کرتے ہوں گے لیکن قرآن اُن کے حلق کے نیچے نہیں اترے گا۔سو یہ وہی زمانہ ہے انہیں لوگوں کی ملاقات سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈرایا ہے اور فرمایا ہے فاعتزل تلك الفرق كلها ولو ان تعض باصل شجرة حتى يدر کک الموت وانت علی ذالک صفحہ ۵۰۹ بخاری۔ یہی لوگ ہیں کہ باوجود یکہ اللہ جلَّ شَانُه اور اُس کا مقدس رسول سرا سر مسیح ابن مریم کی وفات ظاہر کر رہے ہیں ۔ مگر پھر بھی ان کو فرموده خدا و رسول پر اعتماد نہیں حالانکہ حکم یہ تھا فَإِن تَنَازَعْتُمُ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللهِ وَالرَّسُولِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا لا ما كان من شرط ليس فى كتاب الله فهو باطل قضاء الله احقی - بخاری صفحہ ۳۷۷ ط ما عندنا شيء الا كتب الله - بخاری صفحه ۲۵۔ حسبکم القرآن۔ بخاری ۱۷۲۔ اب ہم بطور نمونہ امام بخاری کے افادات کے بیان کرنے سے فارغ ہوئے اور بیانات (۱۰۵) متذکرہ بالا سے ظاہر ہے کہ امام بخاری صاحب اول درجہ پر ہمارے دعاوی کے شاہد اور حامی ہیں اور ہمارے مخالفوں کے لئے ہر گز ممکن نہیں کہ ایک ذرہ بھر بھی اپنے خیالات کی تائید میں کوئی حدیث صحیح بخاری کی پیش کر سکیں۔ سو در حقیقت صحیح بخاری سے وہ منکر ہیں نہ ہم ۔ بالآخر میں یہ بھی لکھنا چاہتا ہوں کہ میں نے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی سے یہ درخواست کی تھی کہ اگر آپ مجھے مکار اور غیر مسلم خیال کرتے ہیں تو آؤ اس طریق سے بھی مقابلہ کرو کہ ہم دونوں نشان قبولیت کے ظاہر ہونے کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کریں سہو کتابت معلوم ہوتا ہے” اسم جنس “ ہونا چاہیے۔ دیکھئے حاشیہ: ۳۶۹۔(ناشر) اے النساء :۶۰