ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 592 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 592

روحانی خزائن جلد ۳ ۵۹۲ ازالہ اوہام حصہ دوم اُن کے مواضع سے کیوں پھیرتے ہو۔ و قد حرفتم و انتم تعلمون سوم قرینہ جو امام بخاری نے بیان کیا ہے یہ ہے کہ آنے والے مسیح اور اصل مسیح ابن مریم کے حلیہ میں جابجا التزام کامل کے ساتھ فرق ڈال دیا ہے۔ ہر ایک جگہ جو اصل مسیح ابن مریم کا حلیہ لکھا ہے۔ اس کے چہرہ کو احمر بیان کیا ہے اور ہر یک جگہ جو آنے والے مسیح کا حلیہ بقول آنحضرت صلم بیان فرمایا ہے اس کے چہرہ کو گندم گوں ظاہر کیا ہے اور کسی جگہ اس التزام کو ہاتھ سے نہیں دیا۔ چنانچہ صفحہ ۴۸۹ میں دو حدیثیں امام بخاری لایا ہے۔ ایک ابو ہریرہ سے اور ایک ابن عمر سے۔ اور اُن دونوں میں یہ بیان ہے کہ معراج کی رات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عیسی کو جو اصل عیسی ہے دیکھا اور اس کو سرخ رنگ پایا۔ اور پھر اس کے آگے ابی سالم سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والے مسیح کو خواب میں (901) دیکھا اور اس کا گندم گوں حلیہ بیان کیا۔ پھر صفحہ ۱۰۵۵ میں ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ آنے والے مسیح کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں دیکھا اور معلوم ہوا کہ وہ گندم گوں ہے اور دجال کو سرخ رنگ دیکھا ( جو اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ وہ سرخ رنگ قوم سے پیدا ہوگا ) اور صفحہ ۴۸۹ میں عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والے ابن مریم کو گندم گوں دیکھا۔ اسی طرح امام بخاری نے اپنی کتاب میں یہ التزام کیا ہے کہ وہ اصل مسیح کے حلیہ کو بروایت نقات صحابہ سرخ بیان کرتے ہیں اور آنے والے مسیح کا حلیہ گندم گوں ظاہر کرتے ہیں جس سے انہوں نے ثابت کیا ہے کہ آنے والا مسیح اور ہے۔ چنانچہ امام بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب اللباس میں بھی آنے والے مسیح کا حلیہ گندم گوں لکھا ہے۔ دیکھو صفحه ۸۷۶ کتاب اللباس۔ اور منجملہ افادات امام بخاری کے یہ ہے کہ انہوں نے اس حدیث کو جو صحیح بخاری کے صفحہ ۶۵۲ اور ۴۶۴ میں ہے یعنی حدیث ما من مولود يولد الا والشيطن يمسة