ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 591
روحانی خزائن جلد ۳ ۵۹۱ ازالہ اوہام حصہ دوم کہ مسیح ابن مریم فوت ہو گیا اور فوت شدہ بندوں میں جا ملا۔ پھر اس پیشگوئی کی نسبت جو ان کی حیح میں درج ہے کہ ابن مریم نازل ہوگا۔ تین قومی قرینے قائم کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ آنے والا ابن مریم ہرگز وہ مسیح ابن مریم نہیں ہے جس پر انجیل نازل ہوئی تھی ۔ چنانچہ اول قرینہ یہ لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ لانبی بعدی - صفحه ۶۳۳ - دوم قرینہ یہ ہے کہ آنے والے مسیح کی نسبت امامکم منکم کا قول استعمال کیا گیا ہے جس سے صاف (۸۹۹) طور پر جتلا دیا ہے کہ وہ مسیح آنے والا اصل مسیح نہیں ہے بلکہ وہ تمہارا ایک امام ہوگا اور تم میں سے ہو گا۔ اور کسی اور امام کا مسیح کے ساتھ ہونا ہرگز ذکر نہیں کیا بلکہ امامت کی وجہ سے ہی مسیح موعود کا نام حکم رکھا عدل رکھا مُقسط رکھا۔ اگر وہ امام نہیں تو یہ صفات جو امامت سے ہی تعلق رکھتی ہیں کیوں کر اس کے حق میں بولی جاسکتی ہیں۔ اور اگر کہو کہ امامت سے مراد نماز خوانی کی امامت ہے جیسا کہ ہر یک مسجد میں ملاں ہوا کرتے ہیں تو یہ عجیب عقل کی بات ہے کیونکہ یہ تو ہرگز ممکن نہیں کہ نہیں کروڑ مسلمانوں کے لئے جو مختلف بلاد میں جابجا سکونت رکھتے ہیں پنج وقت نماز ادا کرنے کے لئے ایک ہی امام کافی ہو بلکہ بڑے بڑے لشکروں کے لئے بھی جو جا بجا حسب مصالح جنگی متفرق ہوں ایک امام کافی نہیں ہو سکتا۔ سونماز پڑھانے کی امامت جیسا کہ آج کل لاکھوں آدمی کرا رہے ہیں یہی تعداد ہر یک زمانہ کے لئے لا بدی اور لازمی ہے جو صرف ایک سے انجام پذیر نہیں ہو سکتی بلکہ امام سے مراد ر ہنما اور پیشوا اور خلیفہ ہے جس کی صفات میں سے حکم اور عدل اور مقسط ہونا بیان کیا گیا ہے۔ اب آنکھ کھول کر دیکھنا چاہیے کہ یہ صفات بخاری کے سیاق سباق دیکھنے سے مسیح موعود کے حق میں ۹۰۰ اطلاق پائے ہیں یا کسی اور کے حق میں ۔ اے بندگانِ خدا کچھ تو ڈرو۔ دیکھو تمہارا دل ہی تمہیں ملزم کرے گا کہ تم حق پر پردہ ڈال رہے ہو ۔ ڈرو۔ اے لوگوڈرو اور خدا اور رسول کے فرمودہ سے عمداً انحراف مت کرو اور الحاد اور تحریف سے باز آجاؤ ۔ اللہ اور رسول کے کلمات کو