ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 586
روحانی خزائن جلد ۳ ۵۸۶ ازالہ اوہام حصہ دوم لائے جائیں گے تب میں کہوں گا کہ اے میرے رب یہ تو میرے اصحاب ہیں تب کہا جائے گا کہ تجھے اُن کاموں کی خبر نہیں جو تیرے پیچھے ان لوگوں نے کئے ۔سواس وقت میں وہی بات کہوں گا جو ایک نیک بندہ نے کہی تھی یعنی مسیح ابن مریم نے ۔ جب کہ اُس کو پوچھا گیا تھا کہ کیا یہ تو نے تعلیم دی تھی کہ مجھے اور میری ماں کو خدا کر کے ماننا۔ اور وہ بات ( جو میں ابن مریم کی طرح کہوں گا یہ ہے کہ میں جب تک اُن میں تھا اُن پر گواہ تھا پھر جب تو نے مجھے وفات دیدی تو اُس وقت تو ہی اُن کا نگہبان اور محافظ اور نگران تھا۔ اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قصہ اور مسیح ابن مریم کے قصہ کو ایک ہی رنگ کا قصہ قرار دے کر وہی لفظ فلما تو فیتنی کا اپنے حق میں استعمال کیا ہے جس سے صاف سمجھا جاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فلما تو فیتنی سے وفات ہی مراد لی ہے۔ کیونکہ اس میں کسی کو اختلاف نہیں کہ ۸۹۱آنحضرت صلعم فوت ہو گئے ہیں اور مدینہ منورہ میں آنحضرت کی مزار شریف موجود ہے۔ پس جبکہ فلما توفیتنی کی شرح اور تغییر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت وفات پانا ہے ثابت ہوا ۔ اور وہی لفظ حضرت مسیح کے منہ سے نکلا تھا اور کھلے طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا کہ جن الفاظ کو مسیح ابن مریم نے استعمال کیا تھا وہی الفاظ میں استعمال کروں گا پس اس سے بکلی منکشف ہو گیا کہ مسیح ابن مریم بھی وفات پا گیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی وفات پاگئے اور دونوں برابر طور پر اثر آیت فلما توفیتنی سے متاثر ہیں ۔ اسی وجہ سے امام بخاری اس آیت فلما تو فیتنی کو قصداً کتاب التفسیر میں لایا تا وہ صیح ابن مریم کی نسبت اپنے مذہب کو ظاہر کرے کہ حقیقت میں وہ اس کے نزدیک فوت ہو گیا ہے ۔ یہ مقام سوچنے اور غور کرنے کا ہے کہ امام بخاری آیت فلما توفیتنی کو کتاب التفسیر میں کیوں لایا۔ پس ادنی سوچ سے صاف ظاہر ہوگا کہ جیسا کہ امام بخاری کی عادت ہے اس کا منشاء یہ تھا کہ آیت فلما توفیتنی کے حقیقی اور واقعی معنی وہی ہیں جن ۸۹۲ کی نسبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ فرمایا ہے۔ سو اس کا مدعا اس بات کا