ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 579
روحانی خزائن جلد ۳ ۵۷۹ ازالہ اوہام حصہ دوم بات ہے کہ ایک نے میرے پاس بیان کیا کہ میں نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ نعوذ باللہ نابینا تھا۔ میں نے کہا کہ تو ابراہیم کی سنت کا منکر اور اس کے دیکھنے سے نابینا ہے۔ ایسا ہی ایک ہندو بڈھے نے بیان کیا کہ نعوذ باللہ حضرت مسیح کو میں نے مجزوم دیکھا ہے۔ میں نے اس کی تعبیر کی کہ تیری بد دینی نا قابل علاج ہے تو کسی عیسی دم سے اچھا نہیں ہوگا۔ ایک نے ﴿۸۷۸ میرے پاس بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ نیلا نہ بند باندھا ہوا ہے اور باقی بدن سے ننگے ہیں اور دال روٹی کھا رہے ہیں میں نے اس کی یہ تعبیر کی کہ دیکھنے والے کو غم اور فقر وفاقہ آئے گا اور اُس کا کوئی دستگیر نہیں ہوگا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا ۔ ایک مرتبہ میرے اُستاد مرحوم مولوی فضل احمد صاحب نے میرے پاس بیان کیا کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسی کوٹھڑی میں اسیروں کی طرح بیٹھے ہیں جس میں آگ اور بہت سا دھواں ہے اور مجھے یاد پڑتا ہے کہ گردا گر داس کو ٹھڑی کے پہرہ داروں کی طرح عیسائی کھڑے ہیں ۔ اور مولوی صاحب بہت متوحش تھے کہ اس کی کیا تعبیر ہے۔ تب خدا تعالیٰ نے فی الفور میرے دل پر القاء کیا کہ یہ سب دیکھنے والے کا حال ہے جو اس پر ظاہر کیا گیا ۔ وہ بے ایمان ہو کر مرے گا اور آخر جہنم اُس کا ٹھکانہ ہو گا اور عیسائیوں میں مل جائے گا۔ مولوی صاحب اس تعبیر کو سنتے ہی باغ باغ ہو گئے اور مارے خوشی کے چہرہ روشن ہو گیا۔ اور فرمانے لگے کہ یہ خواب پوری ہو گئی اور تھوڑا عرصہ ہوا کہ وہ شخص اس خواب کے دیکھنے کے بعد عیسائی ہو گیا ۔ غرض اس بات میں (۴۸۷۹ میں صاحب تجربہ ہوں ۔ مولوی صاحب کو چاہیے کہ ڈریں اور توبہ کریں کہ اُن کے آثار اچھے نظر نہیں آتے ۔ یہ اُن کی ساری خواہیں اُن کی پہلی خواب کی مؤید ہیں۔ رہا یہ عاجز نوٹ رسالہ کامل التعبیر کے صفحہ ۲۶ میں لکھا ہے کہ اگر کسے بیند کہ اندا مے از اندامها رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کم بود آن نقصان نقصان دین بیننده باشد - ابن سیرین رحمہ اللہ گوید کہ اگر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم را ناقص بیند آن نقصان به بیننده باز گردد (دیکھو رسالہ كامل التعبير ص ٢٦) - من منه