ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 580
روحانی خزائن جلد ۳ ۵۸۰ ازالہ اوہام حصہ دوم تو میری صداقت یا عدم صداقت کا امتحان آسان ہے۔ صرف بے ہودہ خوابوں سے میرے پر کوئی الزام نہیں آسکتا اگر فرض کے طور پر مولوی صاحب کی خوا ہیں میری طرف منسوب کی جائیں تب بھی ظاہر ہے کہ ہر یک دشمن اپنی دشمنی کے جوش میں اپنے مخالف کو خواب کی حالت میں کبھی سانپ کی شکل میں دیکھتا ہے اور کبھی کسی اور درندہ کی شکل میں ۔ اور یہ قانون قدرت ہے جو اس پر طاری ہوتا ہے۔ ممکن ہے کہ ایک اُس کا دشمن اس کو سانپ کی شکل میں نظر آوے یا ۸۸۰) کسی درندہ وغیرہ کی شکل میں کیونکہ عداوت کی حالت میں ایسی تمثیلات خود طبیعت عدوانہ اپنے جوش سے پیدا کر لیتی ہے۔ یہ نہیں کہ اس مقدس کی اصل شکل یہی ہوتی ہے۔ بعض اوقات حیوانی شکل قابل اعتراض بھی نہیں ہوتی۔ حضرت مسیح بعض پہلے نبیوں کو برہ کی شکل پر نظر آئے اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو گائیوں کی شکل پر دیکھا اور یہ بات یعنی یہ جو میں نے ابھی بیان کیا ہے کہ میری صداقت یا عدم صداقت کا امتحان آسان ہے اس کی زیادہ تفصیل یہ ہے کہ میرا تو خدا تعالیٰ کے اعلام و افہام سے یہ دعوی ہے کہ اگر دنیا کے تمام لوگ ایک طرف ہوں اور ایک طرف یہ عاجز ہو اور آسمانی امور کے انکشاف کے لئے ایک دوسرے کے قرب اور وجاہت عند اللہ کا امتحان کریں تو میں حلفاً کہتا ہوں کہ مجھے پورا یقین ہے کہ میں ہی غالب آؤں گا۔ خداوند علیم و حکیم کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ آج تک صد با نشان آسمانی میرے پر ظاہر ہو چکے ہیں اور بہت سے لوگ ان نشانوں کے دیکھنے والے موجود ہیں۔ میں نے ۳۱ جولائی ۱۸۹۱ء کے خاتمہ مضمون میں عام طور پر سنا دیا تھا کہ میرے نشانوں کے دیکھنے والے اسی مجلس میں (۸۸) موجود ہیں۔ اگر چاہو تو حلفاً اُن سے تصدیق کرا لو مگر آپ نے دم نہ مارا ۔ پھر میں نے آواز بلند سے تین سو آدمی کی مجلس میں جن میں بعض عیسائی صاحبان اور ایڈیٹر صاحب پر چہ نورافشاں بھی موجود تھے یہ بھی سنادیا تھا کہ مولوی صاحب کو اگر اپنے اہل باطن ہونے کا گمان ہے تو چالیس دن تک میرے ساتھ مقابلہ کے طور پر خدائے تعالی کی جناب میں توجہ کریں اگر میں آسمانی امور کے انکشاف اور نشانوں کے ظہور میں مولوی صاحب پر غالب نہ آیا تو جس ہتھیار