ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 570
روحانی خزائن جلد ۳ ۵۷۰ ازالہ اوہام حصہ دوم اخبار وغیرہ سے معارض نہ ہو لیکن پھر بھی مولوی صاحب بار بار اپنے پر چہ میں یہی لکھتے رہے کہ ابھی میرا جواب نہیں آیا۔ ابھی جواب نہیں آیا۔ حالانکہ اُن کا حق صرف اتنا تھا کہ میرا مذہب دریافت کریں۔ اور جب میں اپنا مذہب بیان کر چکا تو پھر اُن کا ہرگز استحقاق نہ تھا کہ ناحق وہی بات بار بار پوچھیں جس کا میں پہلے جواب دے چکا اور اس طرف لوگ بہت تنگ آگئے تھے اور بعض لوگ جو دور سے اصل بحث سننے کے لئے آئے تھے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ باراں دن تک اصل بحث کا نام و نشان ظاہر نہیں ہوا تو وہ نہایت دل شکستہ ہو گئے تھے کہ ہم نے یونہی دن ضائع کئے لہذا بر طبق حدیث من حسن اسلام المرء تركه ما لا یعنیہ سخت نا چار ہو کر اس فضول بحث کو بند کرنا پڑا۔ اگر چہ مولوی صاحب کسی طرح نہیں ۸۶۳ چاہتے تھے کہ اصل بحث کی طرف آدیں اور اس فضول بحث کو ختم کریں بلکہ ڈراتے تھے کہ ابھی تو میرے اصول موضوعہ اور بھی ہیں جن کو میں بعد اس کے معرض بحث میں ڈالوں گا۔ اور لوگ جلتے تھے کہ خدا آپ کے اصول موضوعہ کا ستیا ناس کرے آپ کیوں اصل بحث کی طرف نہیں آتے ۔ اب ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ مولوی صاحب کی یہ شکایت کس قدر بیچ ہے کہ مجھے جواب لکھنے کے لئے اپنا مضمون نہیں دیا۔ ظاہر ہے کہ جس حالت میں یہ عاجز حسب رائے عام یہ بحث تمہیدی ختم کر چکا تھا تو پھر مولوی صاحب کو تحریری جواب کا کیوں موقعہ دیا جاتا۔ اگر وہ جواب تحریر کرتے تو پھر میری طرف سے بھی جواب الجواب چاہیے تھا۔ اس صورت میں یہ تسلسل کب اور کیوں کر ختم ہو سکتا تھا میں نے بے وقت اس تمہیدی بحث کو ختم نہیں کیا بلکہ باراں دن ضائع کر کے اور مضمون بحث کو دس جزو تک پہنچا کر اور اکثر لوگوں کا واویلا اور شکایت سن کر بدرجہ ناچاری مباحثہ کو ختم کیا اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ اب اصل بحث شروع کریں میں حاضر ہوں لیکن وہ اصل بحث سے تو ایسا ڈرتے تھے جیسا کہ ایک بچہ شیر سے اور چونکہ پہلا سوال مولوی محمد حسین صاحب کی طرف سے تھا اس (۱۲) لئے یہ میرا حق بھی تھا کہ میرے جواب پر ہی بحث ختم ہوتی تا چھ پر چے اُن کے اور چھ پر چے ۸۶۴