ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 571 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 571

۵۷۱ روحانی خزائن جلد ۳ ازالہ اوہام حصہ دوم میرے بھی ہو جاتے چونکہ مولوی صاحب کی نیت نیک نہیں تھی اس لئے انہوں نے اس بحث کا خاتمہ سن کر جس قدر جوش دکھلایا اور جس قدر خشونت وحشیانہ ظاہر کی اور جس قدر خلاف تہذیب کلمات اس جوش کی حالت میں اُن کے منہ سے نکلے وہ اُن سب پر ظاہر ہیں جو اُس وقت حاضر تھے۔ انہوں نے ایک یہ بھی چالا کی اختیار کی کہ اپنی جماعت کے لوگوں کے نام بطور گواہوں کے اپنے اشتہار پر لکھ دئے تا لوگوں کو یہ خیال پیدا ہو کہ وہ فی الحقیقت بچے ہیں تبھی تو اتنے گواہ اُن کے بیان کے مصدق ہیں لیکن یہ کس قدر بد دیانتی ہے کہ اپنی ہی جماعت کو جو اپنے حامی اور انصار اور ایک ہی مدعا میں شریک ہوں بطور گواہوں کے پیش کیا جائے ۔ آخر اس جلسہ میں ثالث آدمی بھی تو موجود تھے جن کو فریقین سے کچھ تعلق نہ تھا۔ جیسے حضرت خواجہ احسن شاہ صاحب آنریری مجسٹریٹ ورئیس اعظم لو دیا نہ جو اس شہر کے ایک نامی معزز اور منتخب رئیس اور صادق اور راستباز آدمی ہیں۔ اور ایسا ہی منشی میراں بخش صاحب اکو نٹنٹ جو ایک معز ز عہدہ دار اور متانت شعار اور اپنے عہدہ اور تنخواہ کی رو سے اکسٹرا اسسٹنوں کے ہم رتبہ ہیں ۔ ایسا ہی حاجی شہزادہ عبدالمجید خاں صاحب ۔ ڈاکٹر مصطفے اعلی (۸۶۵) صاحب خواجہ محمد مختار شاہ صاحب رئیس اعظم لودیا نہ۔ خواجہ عبد القادر شاہ صاحب۔ ماسٹر چراغ الدین صاحب - منشی محمد قاسم صاحب ۔ ماسٹر قا در بخش صاحب ۔ میاں شیر محمد خاں صاحب مھجر والہ اور کئی اور معزز بھی موجود تھے۔ ان تمام معزز رئیسوں اور عہدہ داروں اور بزرگوں کو کیوں گواہی سے باہر رکھا گیا اور کیوں اُن کی شہادتیں درج نہ ہوئیں ۔ حالانکہ فقط جناب خواجہ احسن شاہ صاحب رئیس اعظم کی گواہی ہزار عوام الناس کی گواہی کے برابر تھی۔ اس کا سبب یہی تھا کہ ان بزرگوں کے بیان سے اصل حقیقت کھلتی تھی ۔ افسوس کہ مولوی محمد حسین صاحب نے علاوہ ان اکاذیب کے جو بحث کے متعلق بیان کئے ایک بازاری جھوٹ ہے جو بحث سے کچھ بھی تعلق نہیں رکھتا نا حق اپنے اشتہار میں لکھ دیا۔ چنانچہ وہ اس عاجز کی نسبت اپنے اشتہار میں لکھتے ہیں کہ مجلس سے