ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 560
روحانی خزائن جلد ۳ ۵۶۰ ازالہ اوہام حصہ دوم مستعد ہیں تکلیف دی جاتی ہے کہ وہ تحریر خاص اپنے پورے پورے نام وولد بیت و سکونت مستقل و عارضی سے اطلاع بخشیں یا اپنے حاضر ہونے کے وقت یہ تمام امور درج کرا دیں۔ اور ظاہر ہے کہ ایسی کتاب کا مرتب و شائع ہونا جس میں تمام بیعت کرنے والوں کے نام و (۸۴) دیگر پستہ و نشان درج ہو۔ ان شاء اللہ القدیر بہت سی خیر و برکت کا موجب ہوگا۔ از انجملہ ایک بڑی عظیم الشان بات یہ ہے کہ اس ذریعہ سے بیعت کرنے والوں کا بہت جلد باہم تعارف ہو جائے گا اور با ہم خط و کتابت کرنے اور افادہ و استفادہ کے وسائل نکل آئیں گے اور غائبانہ ایک دوسرے کو دعائے خیر سے یاد کریں گے ۔ اور نیز اس باہمی شناسائی کی رو سے ہرایک محل و موقعہ پر ایک دوسرے کی ہمدردی کر سکیں گے۔ اور ایک دوسرے کی غمخواری میں یارانِ موافق و دوستان صادق کی طرح مشغول ہو جائیں گے اور ہر ایک کو ان میں سے اپنے ہم ارادت لوگوں کے ناموں پر اطلاع پانے سے معلوم ہو جائے گا کہ اس کے روحانی بھائی دنیا میں کس قدر پھیلے ہوئے ہیں اور کن کن خدا دا د فضائل سے متصف ہیں۔ سو یہ علم اُن پر ظاہر کرے گا کہ خدائے تعالیٰ نے کس خارق عادت طور پر اس جماعت کو تیار کیا ہے اور کس سرعت اور جلدی سے دنیا میں پھیلایا ہے۔ اور اس جگہ اس وصیت کا لکھنا بھی موزوں معلوم ہوتا ہے کہ ہر ایک شخص اپنے بھائی سے بکمال ہمدردی و محبت پیش آوے اور حقیقی بھائیوں سے بڑھ کر اُن کا قدر کرے۔ اُن سے جلد صلح کر لیوے اور دلی غبار کو دور کر دیوے ۸۴۹) اور صاف باطن ہو جاوے اور ہرگز ایک ذرا کینہ اور بغض اُن سے نہ رکھے لیکن اگر کوئی عمدا پہلا تو لد ہے مگر وہ اندرونی نور جو روح القدس سے تعبیر کیا گیا ہے وہ عبودیت خالصہ تامہ اور ربوبیت کاملہ مستجمعہ کے پورے جوڑ و اتصال سے بطرز ثُمَّ أَنْشَائَهُ خَلْقًا أَخَرَ کے پیدا ہوتا ہے اور یہ ربوبیت ثانیہ ہے جس سے متقی تولد ثانی پاتا ہے اور ملکوتی مقام پر پہنچتا ہے اور اس کے بعد ر بو بیت ثالثہ کا درجہ ہے جو خلق جدید سے موسوم ہے جس سے متقی لا ہوتی مقام پر پہنچتا ہے اور تولد ثالث پاتا ہے۔ فتدبر منه المومنون : ۱۵