ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 561
روحانی خزائن جلد ۳ ۵۶۱ ازالہ اوہام حصہ دوم ان شرائط کی خلاف ورزی کرے جو اشتہار ۱۲ / جنوری ۱۸۸۹ء میں مندرج ہیں اور اپنی بے باکانہ حرکات سے باز نہ آوے تو وہ اس سلسلہ سے خارج شمار کیا جاوے گا۔ یہ سلسلہ بیعت محض بمراد فراہمی طائفہ متقین یعنی تقوی شعار لوگوں کی جماعت کے جمع کرنے کے لئے ہے تا ایسے متقیوں کا ایک بھاری گروہ دنیا پر اپنا نیک اثر ڈالے اور اُن کا اتفاق اسلام کے لئے برکت وعظمت ونتائج خیر کا موجب ہو اور وہ برکت کلمہ واحدہ پر متفق ہونے کے اسلام کی ۸۵۰ ) پاک و مقدس خدمات میں جلد کام آسکیں اور ایک کاہل اور بخیل و بے مصرف مسلمان نہ ہوں اور نہ اُن نالائق لوگوں کی طرح جنہوں نے اپنے تفرقہ و نا اتفاقی کی وجہ سے اسلام کو سخت نقصان پہنچایا ہے اور اس کے خوبصورت چہرہ کو اپنی فاسقانہ حالتوں سے داغ لگا دیا۔ ہے اور نہ ایسے غافل درویشوں اور گوشہ گزینوں کی طرح جن کو اسلامی ضرورتوں کی کچھ بھی خبر نہیں اور اپنے بھائیوں کی ہمدردی سے کچھ غرض نہیں اور بنی نوع کی بھلائی کے لئے کچھ جوش نہیں بلکہ وہ ایسے قوم کے ہمدرد ہوں کہ غریبوں کی پناہ ہو جائیں ۔ قیموں کے لئے بطور باپوں کے بن جائیں اور اسلامی کاموں کے انجام دینے کے لئے عاشق زار کی طرح اس جماعت کے نیک اثر سے جیسے عامہ خلائق منتفع ہوں گی ۔ ایسا ہی اس پاک باطن ۸۴۹ جماعت کے وجود سے گورنمنٹ برطانیہ کے لئے انواع اقسام کے فوائد متصور ہوں گے جن سے اس گورنمنٹ کو خداوند عز و جل کا شکر گذار ہونا چاہیے۔ از انجملہ ایک یہ کہ یہ لوگ بچے جوش اور دلی خلوص سے اس گورنمنٹ کے خیر خواہ اور دعا گو ہوں گے کیونکہ ہمو جب تعلیم اسلام (جس کی پیروی اس گروہ کا عین مدعا ہے ) حقوق عباد کے متعلق اس سے بڑھ کر کوئی گناہ کی بات اور حبت اور ظلم اور پلید راہ نہیں کہ انسان جس سلطنت کے زیر سایہ بامن و عافیت زندگی بسر کرے اور اس کی حمایت سے اپنے دینی ودنیوی مقاصد میں بآزادی کوشش کر سکے اسی کا بدخواہ و بداندیش ہو بلکہ جب تک ایسی گورنمنٹ کا شکر گذار نہ ہو تب تک خدائے تعالیٰ کا بھی شکر گذار نہیں۔ پھر دوسرا فائدہ اس بابرکت گروہ کی ترقی سے گورنمنٹ کو یہ ہے کہ ان کا عملی طریق موجب انسداد جرائم ہے۔ فتفكروا و تاملوا - منه }